.

دمشق کے علاقے اولڈ سٹی میں ایک بار پھر روسی فوجیوں کی موجودگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں موجود روسی فوجیوں کو دارالحکومت دمشق کے علاقے اولڈ سٹی میں گھومتے پھرتے دیکھا گیا ہے۔ رواں سال کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب شامی کارکنان کے کیمروں نے اس طرح کے مناظر کو اپنی آنکھ میں محفوط کیا۔ البتہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا روسی فوجی کا گشت تفریح کی غرض سے تھا یا پھر انہیں محدود عسکری وجود کے تحت وہاں تعینات کیا گیا۔ واضح رہے کہ اموی مسجد اور تاریخی اہمیت کا حامل الحمیدیہ بازار بھی اولڈ سٹی میں ہی واقع ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی تصاویر اور وڈیوز میں روسی فوجی اہل کار الحمیدیہ بازار میں گھومتے پھرتے نظر آ رہے ہیں۔ ان میں بعض نے مخصوص اشیاء کی خریداری کی جب کہ دیگر فوجیوں نے ارد گرد کے لوگوں پر نظر رکھنے پر ہی اکتفا کیا۔

چند روز قبل "مراسل سوری" کی ٹیم کی جانب سے جاری وڈیو کلپ میں روسی فوجیوں کے علاوہ دیگر شہریت کے حامل فوجی اہل کار بھی نظر آئے جو بشار الاسد کے دفاع کے لیے روسی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ ان اہل کاروں کو بھی آزادانہ طور پر چلتے پھرتے اور خریداری کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

الحمیدیہ کے بازار میں ایک روسی طبی عسکری گاڑی بھی نظر آئی جس کے ساتھ روسی فوج کے اہل کار موجود تھے۔

اس سے قبل فروری 2018 میں روسی فوجیوں کو پہلی مرتبہ دمشق کے اولڈ سٹی میں دیکھا گیا تھا۔ مختلف ذرائع کے مطابق مذکورہ فوجی روسی پرچم لے کر الحمیدیہ کے بازار میں گھوم رہے تھے۔

روس اور ایران کو شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد کا نمایاں ترین حلیف شمار کیا جاتا ہے۔ بشار الاسد کی حکومت کو سقوط سے بچانے کے لیے ماسکو نے سرکاری طور پر اپنی فوج ستمبر 2015 میں شام بھیجی تھی۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے شام میں مداخلت کا سلسلہ انقلابی تحریک کے آغاز کے ساتھ شروع ہو گیا تھا۔ اس دوران 2013 سے بھیجی گئی فورسز میں ایرانی پاسداران انقلاب کے علاوہ لبنانی حزب اللہ اور مختلف قومیتوں کی حامل درجنوں ملیشیائیں شامل ہیں۔ ان تمام فورسز کے ہاتھ شامی شہریوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔