.

"عربی زبان"، بشار الاسد کی بے بنیاد باتوں کا نیا ہدف !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں ماہ 18 دسمبر کو عربی زبان کا عالمی دن منانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ تاہم شامی صدر بشار الاسد نے اقوام متحدہ کی جانب سے منظور شدہ اس عالمی دن کے آنے سے قبل عربی زبان کی اصل اور بنیاد کے متعلق تمام نظریات اور حقائق پر جھاڑو پھیر دی ہے۔ بشار کا کہنا ہے کہ عربی زبان درحقیقت سریانی زبان کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس موقف میں عربی زبان کے حوالے سے عربوں کی نمائندگی کے علاوہ عربی کی ثقافتی، تہذیبی، مذہبی اور ادبی تاریخ سے بھی انکار کر دیا گیا ہے۔

بعض محققین کے نزدیک عربی زبان ہی تمام زبانوں کی بنیاد ہے اور بعض دوسرے محققین کا خیال ہے کہ جزیرہ عرب ہی دنیا کی تمام زبانوں کی دھرتی ماں ہے۔

عربی روزنامے عُمان کو دیے گئے انٹرویو میں بشار نے کہا کہ "عربی زبان ،،، سریانی زبان سے نکل کر اپنی موجودہ شکل تک پہنچی ہے۔ عرب، سیکولر اور مسلم ان باتوں نے ہمیں ایسی شناخت دی جن سے بحرانات نے جنم لیا"۔

اگرچہ شامی حکومت کا میڈیا اپنے ملک میں ترکی کی فورسز کو قابض فوج قرار دیتا ہے تاہم بشار الاسد کا کہنا ہے کہ "ہم پر لازم ہے کہ ایک شناخت کو پائیں جیسا کہ ترک کر رہے ہیں۔ وہ دنیا بھر میں اپنی شناخت مضبوط بنانے پر کام کر رہے ہیں"۔

شامی صدر کا انٹرویو ہفتے کے روز روزنامہ (عُمان) کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا۔

بشار الاسد کا یہ کہنا کہ عربی زبان نے دراصل سریانی زبان سے نکل کر ارتقا کی منازل طے کیں ،،، خود سریانی ماہرین لسانیات ، عربی زبان کے محققین اور اکثر مستشرقین کی رائے کے خلاف ہے۔

اٹھارویں صدی کے اواخر میں شائع ہونے والی کتاب (اللمعة الشهية في نحو اللغة السريانية) میں اس کے مؤلف يوسف داؤد الموصلی السریانی نے لکھا ہے کہ سریانی زبان ،،، سامی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور مشہور سامی زبانوں میں عربی، عربانی، سریانی اور حبشی زبان شامل ہے۔

وہ اپنی کتاب میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ عربی کو سامی زبانوں میں سب سے پہلے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تمام محققین اس بات کے معترف ہیں کہ عربی زبان لسانیات اور قدیم ہونے کے لحاظ سے دیگر تمام سامی زبانوں پر فوقیت کی حامل ہے۔

بشار الاسد نے اپنے دعوے کی بنیاد اس بات کو بنایا ہے کہ عربی اور سریانی زبانوں کے بعض الفاظ اور افعال ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ تاہم 1930ء کی دہائی میں شائع معروف کتاب (نشوء اللغة العربية ونموّها واكتهالها) کے مطابق عربی زبان نے عبرانی، آرامی اور سریانی زبانوں سے کچھ نہیں لیا سوائے اُن چیزوں کے جو خصوصی طور پر بنی اسرائیل یا بنی ارم سے مربوط ہیں۔

کتاب کے مؤلف فادر کرملی کا کہنا ہے کہ تمام سامی زبانیں ایک دوسرے کے ساتھ ملتی جلتی ہیں۔ واضح رہے کہ فادر کرملی عربی زبان، اس کی تاریخ اور ادب کی گراں قدر حیثیت کا بھرپور دفاع کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک سے زیادہ کتاب اور مقالے تحریر کیے۔

عربی زبان کی فضیلت و اہمیت کو دھندلانے کی کوشش کرنے والوں کے بارے میں فادر کرملی کا کہنا ہے کہ "عربی زبان کی فضیلت اور مقام سے انکار ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ آپ کو ایسے لوگ بھی نظر آئیں گے جن کی مادری زبان عربی ہے مگر وہ اس زبان کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسے لوگ یہ ثبوت دیتے ہیں کہ وہ اتنے پست ہیں کہ عوامیت میں رہ کر بھی اپنی جانب سے آراء کا اختراع کر لیتے ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت عربی زبان کے حوالے سے شناخت کو اپنی بد بختی خیال کرتے ہیں"۔