.

موصل: شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کا سنیوں کی مسجد پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل میں سنی وقف کی ایک مسجد پر شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کی فورس کے قبضے اور اس کا نام بدلنے کے بعد شہر میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔

نینوی صوبے میں سنی وقف کے ڈائریکٹر ابو بکر کنعان نے صوبے کے گورنر نوفل العاکوب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موصل کی مسجد الارقم پر الحشد الشعبی کا قبضہ ختم کروانے کے لیے مداخلت کریں۔

گورنر کے نام بھیجے گئے خط میں العاکوب نے لکھا کہ "ایسے وقت میں جب ہم موصل کو داعش تنظیم سے آزاد کرائے جانے کا ایک سال مکمل ہونے کی خوشی منا رہے ہیں ،،، الحشد الشعبی ملیشیا کی ایک فورس نے موصل کے علاقے المثنی میں جامع مسجد الارقم پر قبضہ کر لیا ہے۔ ملیشیا نے اس پر جامع مسجد الوحدہ الاسلامیہ کی تختی نصب کر دی ہے۔ اس فورس نے مسجد پر دھاوے کے وقت کہا تھا کہ اس کا مقصد یکجا نماز قائم کرنا ہے تاہم بعد ازاں واضح ہوا کہ یہ فورس مسجد کو اپنا مرکز بنانے کے لیے کوشاں ہے"۔

دوسری جانب عراقی رکن پارلیمنٹ احمد الجبوری نے پیر کی شب اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ جامع مسجد الارقم پر الحشد الشعبی کا دھاوا اور قبضہ کسی طور قابل قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "مساجد یعنی اللہ کے گھر یہ ہر مسلمان کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کو لپیٹ میں لینے کا عمل یکسر طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔ الحشد الشعبی کے سربراہ پر لازم ہے کہ وہ ان عناصر کو باہر نکالنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔ اس لیے کہ یہ فعل کسی طور بھی قومی مفاد میں نہیں"۔

یاد رہے کہ موصل کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے چند روز قبل مطالبہ کیا تھا کہ الحشد الشعبی ملیشیا کو شہر سے نکال دیا جائے۔