.

تیز رفتار انصاف کی فراہمی، سعودی عرب میں نئی عدالتی اصلاحات

مقدمات کے سماعت کی ریکارڈنگ، بغیرمقدمہ نان نفقے کا حق دینے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سپریم جوڈیشل کونسل نے بعض عدالتی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر انصاف اور سپریم جوڈیشل کونسل کےچیئرمین الشیخ ڈاکٹر ولید الصمعانی نے کہا ہے کہ مقدمات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹرائل کے تمام مراحل کی آڈیویو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی۔ اس کا مقصد جج، وکلا، اور مقدمے کے فریقین کے حقوق کا تحفظ، عدالتی شفافیت کو یقینی بنانا اور انصاف کی فراہمی کے لیے مزید بہتر اقدامات کرنا ہے۔ عدالتی اصلاحات کے اس پروگرام کے تحت ریمورٹ کنٹرول ترجمہ اور الیکٹرانک اور ڈیجیٹل کی سہولت شامل کی جائے گی تاکہ انصاف کی فراہمی کے لیے سرگرم تمام اداروں کو کام میں جدت لانے اور اسے بہتربنانے میں مدد مل سکے۔

ڈاکٹر الصمعانی کا کہنا تھا کہ ٹرائل کے مراحل کی ریکارڈنگ سے کام میں آسانی اور مقدمات نمٹانے کے عمل میں تیزی آئےگی اور عدالتوں اور مقدمات کے حوالےسے شہریوں کی شکایت کم ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ جج، مقدمے کے فریقین اور ان کی طرف سے مقدمات کی پیروی کرنے والےوکلاء کے حقوق کا تحفظ ہوسکے گا۔ ریکارڈنگ کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل عدالتی کارروائی کی تفصیلات جان سکے گی اور اس حوالے سے ضروری اصلاح اور مشورہ فراہم کرنے کے قابل ہوگی۔

شیرخوارگی کی طرح نفقہ کا حق

سعوی عرب کے وزیر انصاف ڈاکٹر الصمعانی کا کہنا ہے کہ آنے والے چار مہینوں کے اندر اندر خاتون کو عدالت جائے اور مقدمہ کیے بغیر ہی اس کا نان نفقہ ملنا شروع ہوجائے گا۔ اس سے قبل زیر کفالت بچوں کےحوالے سے اس قانون کو نافذ کیا جا چکا ہے۔ تاہم اگر کسی کو اس پرکوئی اعتراض ہو تو وہ عائلی عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر انصاف نےکہا کہ ان اصلاحات سے بچے اور کفالت کرنے والی ماں دونوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ یہ اعلان النفقہ فنڈ کے حالیہ دنوں میں کیےگئے فیصلوں پرعمل درآمد کا حصہ ہے۔ نفقے کے مستحق افراد کو عدالت جانے کی ضرورت نہیں۔ چار ماہ کے اندر اندر ان کا حق انہیں ملے گا۔

طبی سقم کمیٹیوں کی عدلیہ کو منتقلی

نیم عدالتی کمیٹیوں کے بارے میں بات کرتےہوئے وزیر انصاف نے کہا کہ صحت سے متعلق کمیٹیاں جو طبی سقم سے متعلق تنازعات کو دیکھتی ہیں جلد ہی وزارت انصاف سے عدلیہ کے سپرد کری جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹیاں خصوصی عدالت کے طورپر منتقل کی جائیں گی۔

ملازمت کے معاہدوں پرعمل درآمد

ڈاکٹر ولید الصمعانی نے کہا کہ ملازمین اور لیبر کے حقوق کے حوالے سے وزارت انصاف اور وزارت برائے لیبر اور سماجی بہبود کے درمیان تعاون جاری ہے۔ جلد ہی صارف اور لیبرعدالتیں بھی وزارت انصاف کو منتقل کردی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ملازمین اور لیبر کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے بھی اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ عن قریب ملازمت سے متعلق فیصلوں پرعمل درآم یقینی بنایا جائے گا۔ ملازمت کے معاہدے میں کسی مشکل کی صورت میں عدالت کے دروازے کھلے ہوں گے۔