.

جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والا ایرانی رضاکار جاں بحق

وحید صیاد نصیری پر ٹویٹر کے ذریعے مرشد اعلیٰ خامنہ ای پر تنقید کا الزام تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اپنی گرفتاری کے خلاف دو ماہ سے جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے رضاکار وحید صیاد نصیری گذشتہ روز انتقال کر گئے۔

اس امر کا اعلان انسانی حقوق کی تنظیموں نے جمعرات کے روز کیا۔ وحید صیاد نصیری کو مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے خلاف ٹویٹر کے ذریعے تنقید اور ایرانی عوام کو ظلم اور زیادتی کا شکار بنانے میں ان کے کردار کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔

انسانی حقوق ایجنسی ’’ھرانا‘‘ نے مرحوم نصیری کے لواحقین کے حوالے سے بتایا کہ ان کے خاندان کے اکلوتے بیٹے کو حال ہی میں جیل سے رہائی ملی تھی، تاہم بعد میں انہیں قم شہر میں انٹیلیجنس اہلکاروں نے یکم اگست کو دوبارہ گرفتار کر کے ایک ہفتے بعد قم کی الساحلی جیل بھیج دیا۔

گرفتاری کے چند دنوں بعد ہی وحید صیاد نصیری کو انقلاب عدالت نے ساڑھے چار برس قید کی سزا سنا دی۔ ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے مرشد اعلیٰ کی اہانت، حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ اور قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے والی ٹویٹس کا الزام تھا۔

سزا کے بعد صیاد نصیری نے بھوک ہڑتال کر دی۔ ان کے اہل خانہ کے بقول دو ماہ تک کی بھوک ہڑتال سے ان کا نظام انہضام بری طرح خراب ہو گیا حتی کہ وہ پانی بھی نہیں پی سکتے تھے۔ جیل حکام نے ان کی صحت پر کوئی توجہ نہیں دی جس سے ان کی حالت روز بروز بگڑتی گئی۔

مکمل طور پر نڈھال نصیری کو جیل انتظامیہ نے ہسپتال منتقل کر کے ان کے لواحقین کو اطلاع دی گئی، تاہم ان کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ قم ہسپتال میں دم توڑ گئے۔