.

کیا ایران نے جاسوسی اڈہ بلقان ممالک منتقل کر دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انٹیلی اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نے اپنے اڈے مشرقی یورپ سے بلقان ممالک میں‌منتقل کردیئے ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس اداروں کےمطابق کے مطابق یورپی ملکوں میں بم دھماکوں، اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہ نمائوں پر ناکام قاتلانہ حملوں اور فرانس، جرمنی، بیلجیم، ڈنمارک، سویڈن اور ناروے میں ایرانی جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد تہران نے اپنا جاسوسی نیٹ ورک بلقان ممالک میں منتقل کردیا ہے۔

امریکی ویب سائیٹ"دی گلوب پوسٹ" کے مطابق ایرانی رجیم نے خفیہ طورپر اپنا جاسوسی نیٹ ورک بلغاریہ، مقدونیا، کوسوو جیسے ممالک میں پھیلا دیا ہے جو لاجسٹک اوردہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے ان ملکوں کی سرزمین کو استعمال کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلقان ممالک میں ایرانی سرگرمیاں پہلے خفیہ تھیں اور اب اعلانیہ ہیں۔ ایرانی انٹیلی جنس ادارں نے حزب اللہ کو یورپ تک رسائی کے لیے سہولیات فراہم کیں۔ ایران نے یورپی ملکوں میں‌ انسداد دہشت گردی کے قوانین نہ ہونے سے فائدہ اٹھایا۔

بلقان ممالک سے قبل ایران نے فرانس، جرمنی، آسٹریا اور دیگر اسکنڈنیوین ممالک کو اپنا جاسوسی اڈوں کے طورپر استعمال کیا۔