.

ایران میں افلاس سے سالانہ 10 ہزاربچے لقمہ اجل بننے لگے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکومت کی بدتر معاشی پالیسیوں اور قومی وسائل کے بیرون ملک جنگوں میں‌ استعمال کے نتیجے میں سالانہ ہزاروں شیر خوار لقمہ اجل بن رہے ہیں۔

یہ انکشاف ایرانی وزارت صحت کے حفظان شیرخوار شعبے کے چیئرمین محمد حیدری نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران میں بدتر معاشی حالات کے باعث سالانہ 10 ہزار بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

تہران میں وزارت صحت میں ایک تقریب سے خطاب میں محمد حیدری کا کہنا تھا کہ ایک ہزار نومولود بچوں میں 8 اعشاریہ 27 فی صد بچے فوت ہو جاتے ہیں۔ ایران میں سالانہ اوسطا 24 لاکھ بچے جنم لیتے ہیں جن میں سے 10 ہزار بچے فوت ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیستان، بلوچستان، ہرمزکان، کرمان شاہ اور کرمان میں نومولود بچوں کی سب سے زیادہ ہلاکتوں میں سب سے آگے ہیں۔ صحت کی سہولیات کے فقدان کے نتیجےمیں پیدائش کے وقت بچے فوت ہو جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکا نے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد تہران پر اقتصادی پابند بحال کر دی ہیں۔ ان پابندیوں کے باعث ایران میں ادویات، اشیائے صرف کی دیگر اشیا اور رہائش ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے۔