.

سعودی عرب نے یمن کی ڈوبتی معیشت کو کیسے سہارا دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے بغاوت کے بعد تیزی کے ساتھ یمنی معیشت زوال کا شکار ہوئی اور جنگ نے یمنی کرنسی ریال کی قیمت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کئے مگر اس تشویشناک اور پریشان کن دور میں سعودی عرب نے یمن کی گرتی معشیت کو سہارا دیا اور یمنی ریال کو تباہ ہونے سے بچایا۔ گذشتہ تین سالوں میں سعودی عرب نے متعدد بار یمن کے مرکزی بنک کو کم سے کم 3 ارب ڈالر کی مدد فراہم کی جب کہ مجموعی طورپر یمن کو سعودی عرب کی طرف سے 13 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی گئی ہے۔
یمن کے مرکزی بنک کو ملازمین کی تنخواہوں کی ادائی کی مد میں تین اب ڈالر سے زاید رقم دی گئی۔ اس امداد کے نتیجے جہاں ملازمین کو تنخواہوں کی ادائی ممکن ہوئی وہیں یمنی ریال کو زوال سےبچایا ۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک طرف سعودی عرب یمن کی معیشت کو بچانے کے لیے مسلسل مد فراہم کرتا رہا اور دوسری طرف حوثی باغیوں نے تین سال کے دوران غریب ملک کے 5 ارب ڈالر غبن کرلیے۔ حوثیوں نے صنعاء میں مرکزی بنک کی شاخوں سے تقریبا دو کھرب یمنی ریال کی لوٹ مار کی۔
سعودی عرب نے ایک طرف یمنی معیشت کو سنھبالا دیا اور دوسری طرف ستمبر 2016ء کو حوثیوں کے ہاتھوں صنعاء سے حکومت کی بے دخلی کے بعد یمن کو نہ ختم ہونے والی جنگ سے بچانے میں مدد کی۔ سعودی عرب نے دوسرے عرب ممالک کے ساتھ مل کر یمن میں قیام امن کے لیے ایک عسکری اتحاد تشکیل دیا۔ یہ اتحاد نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کے امن او استحکام کے لیے معاون اور مدد گار ثابت ہوا۔