آسٹریا میں حزب اللہ کا پرچم لہرانے والا 'اسد ملیشیا' کا لیڈر نکلا

فادی شمعون کی آسٹریا بے دخلی روکنے کے لیے مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آسٹریا کے عدالتی حکام نے اسد رجیم کی ایک وفادار ایک ملیشیا کے سابق جنگجو کو ملک بدر کرنے کی تیاریاں شروع کی ہیں۔ فادی شمعون نامی اس شخص کا تعلق دہشت گرد گروپوں کے ساتھ بتایا جاتا ہے اور اسی الزام کے تحت اسے آسٹریا سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب فادی شمعون کی بے دخلی روکنے کے لیے ایک ماہ سے ایک مہم بھی جاری ہے۔

انٹرنیٹ نیٹ پر اسد رجیم کے مقرب اداروں کی طرف سے فادی شمعون کی تصاویر اور اس کے حمایت میں ایک مہم شروع کی گئی ہے۔ آن لائن صفحات میں کہا گیا ہے کہ آسٹریا کے حکام نے شمعون کو 8 دسمبر کو طلب کرکے اس سے پوچھ تاچھ کی ہے اور اس تفتیش کے نتائج میں‌ اس کی ملک سے بے دخلی شامل ہے۔

خیال رہے کہ فادی شمعون نے اپنی حقیقت مخفی نہیں رکھی بلکہ اس نے کیمروں کے سامنے آکر لبنانی حزب اللہ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کرنے کے ساتھ شام میں خون خرابے میں‌ ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

آسٹریا کے ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد فادی شمعون نے حزب اللہ کا پرچم لہرایا۔ اس موقع پر اس کے خاندان کے متعدد افراد بھی موجود تھے۔ اس نے دہشت گرد گروپ حزب اللہ کا جھنڈا اپنے کندے پر پھیلایا اور اس کے بعد صدر بشارالاسد اور شام میں اسد رجیم کی حمایت کی۔

شامی اپوزیشن کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات میں‌ بتایا گیا ہے کہ فادی شمعون ایک عرصے تک شام میں اسد رجیم کی ماتحت 'نیشنل ڈیفینس' ملیشیا کا لیڈر رہ چکا ہے۔ اس نے حزب اللہ کے جنگجوئوں کے ساتھ مل کر شام میں بے گناہ لوگوں‌ کا قتل عام کیا اور دہشت گردی کی دیگر کاروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

فادی شمعون کو شام میں‌ بھی جنگجوئوں کے درمیان دیکھا گیا۔ وہ یونٹ کمانڈر کے طورپر اپنے آبائی علاقے راس شمعون کے علاوہ الحسکہ اور القاشملی میں اپوزیشن کے خلاف لڑائی میں‌ پیش پیش رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر کم سے کم تین ایسی ویڈیو موجود ہیں جن میں فادی شمعون کو نہتے شہریوں اور ان کے گھروں کی حفاظت کرنے والوں کے خلاف بھاری اسلحے کا استعمال کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں