.

بغداد کی صوبائی کونسل کے رکن کے دفتر میں خامنہ ای اور خمینی کی تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں بغداد صوبے کی کونسل کے رکن علی جعفر العلاق کی تصویر نے گزشتہ دو روز کے دوران ٹویٹر پر بعض عراقیوں کے بیچ وسیع پیمانے پر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اگرچہ یہ تصویر العلاق کی ایک پرانی وڈیو ریکارڈنگ سے لی گئی ہے تاہم اس کے باوجود عراقیوں کی جانب سے اس تصویر کو سوشل میڈیا پر پھر سے پوسٹ کرنے کے بعد مذمت کی گئی ہے۔

تصویر میں جعفر العلاق اپنے دفتر میں کرسی پر بیٹھے نظر آ رہے ہیں جب کہ ان کے پیچھے دو تصاویر بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان میں ایک تصویر ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کی اور دوسری تصویر ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی کی ہے۔ ان کے علاوہ العلاق کی تصویر میں ایک مشین گن بھی نظر آ رہی ہے۔

عراقی حلقوں کی جانب سے تبصروں میں اس بات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ العلاق نے عراقی ریاست کے زیر انتظام دفتر میں غیر ملکی شخصیات کی تصاویر رکھی ہوئی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہاں تک کہا ہے کہ "کیا یہ اس عراقی عہدے دار کی ایرانی پیروی کی سب سے بڑی دلیل نہیں ہے"۔

یاد رہے کہ العلاق کی یہ پرانی تصویر دو روز قبل ان کے اُس بیان کے بعد پھر سے منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے بغداد صوبے کی کونسل کے انتخابات کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

العلاق نے اخباری بیان میں کہا تھا کہ "بغداد کے گورنر کے انتخاب کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں کونسل کے ایک تہائی ارکان غیر حاضر تھے۔ اسٹیٹ آف لاء اتحاد نے اجلاس کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کونسل کے سربراہ نے التوا کی منظوری بھی دے تھی۔ تاہم بعض ارکان کی جانب سے قانون اور آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجلاس منعقد کیا گیا"ْ۔

العلاق نے باور کرایا کہ وہ قانون کی اس خلاف ورزی پر وفاقی عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔