.

فضائی حدود کی خلاف ورزی پر عراق کا ترکی سے شدید احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق نے ترک فوج کی جانب سے عراق کی فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزیوں پر ترکی سے سخت احتجاج کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں‌ کہا گیا ہےکہ وزارت خارجہ نے بغداد میں‌ متعین ترک سفیر فاتح یلدز کو دفتر میں طلب کر کے انہیں احتجاجی یادداشت دی جس میں انقرہ سے عراق کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر احتجاج کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق ترکی کی جانب سے فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک فضائیہ نے حالیہ ایام میں شمالی عراق کےعلاقوں جبل سنجار اور مخمور پر بمباری کر کے متعدد شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ بمباری میں بڑے پیمانے پر املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ترک فضائیہ کی کارروائیاں عراق کی خود مختاری پر حملہ اور عراقی شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہیں۔ ترکی نے ثابت کیا ہے کہ وہ اچھا ہمسایہ ملک بننے کے بجائے عراق کے لیے مشکلات اور ہمسائیگی کے بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں‌ کر رہا ہے۔

ادھر ترک فوج کی طرف سے "ٹویٹر" پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کے روز فضائیہ نے شمالی عراق میں کردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے 8 جنگجو ہلاک ہوگئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج نے شمالی عراق کے متعدد علاقوں بالخصوص زاب، ھاکروک اور ھفتانین کو نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ ترکی کرد تنظیم 'کرد ورکرز پارٹی' کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔ یہ تنظیم ترکی کے علاوہ عراق میں بھی سرگرم ہے۔ ترکی کا الزام ہے کہ علاحدگی پسند کرد تنظیم نے عراق میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔