.

قطری وزیر خارجہ کی جی سی سی پر تنقید ، متبادل تنظیم کے قیام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کی جگہ ایک نئے علاقائی اتحاد کے قیام کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کونسل اب ’’نقصان زدہ‘‘ ہوچکی ہے۔

وہ ہفتے کے روز قطری دارالحکومت دوحہ میں پالیسی سازوں کے دوروزہ فورم کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کونسل کےتین رکن ممالک کی جانب سے قطر سے مطالبات پر کوئی بات کرنے کے بجائے کہا ہے کہ جی سی سی کسی بھی تنازع کو حل کرنے کی صلاحیت کی حامل نہیں ہے۔

ان سے قبل امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے تقریر کی تھی۔انھوں نے گذشتہ اتوار کو سعودی دارالحکومت الریاض میں جی سی سی کے سربراہ اجلاس میں دعوت کے باوجود شرکت نہیں کی تھی۔

بحرین اور یواے ای کا ردعمل

بحرین کے وزیر خارجہ نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ قطر مکالمے پر زور دیتا ہے مگر اس نے الریاض سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔وہ باہمی احترام کی بات کرتا ہے مگر وہ ہمارے لیڈروں اور ملکوں کے خلاف چوبیس گھنٹے حملے کرتا رہتا ہے۔وہ عدم مداخلت کی بات کرتا ہے مگر وہ دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کرتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے بھی قطری وزیر خارجہ کے جواب میں ایک بیان جاری کیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ’’ امیرِ قطر نے دوحہ فورم میں تقریر کرتے ہوئے ایک جانب تو اپنے داخلی امور میں دوسروں کی مداخلت کی مخالفت کی ہے لیکن وہ دوسری جانب اپنے ہمسایہ ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کررہے ہیں۔یہ ان کا دُہرا معیار ہے۔ان کے پیش رو امیر نے بھی یہی روش اختیار کی تھی۔ہم قطر کی نوجوان قیادت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں دیکھتے ہیں‘‘۔

جی سی سی کے تین رکن ممالک سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین ایک عرصے سے اپنے پڑوسی ملک قطر پر الاخوان المسلمون سمیت دہشت گرد گروپوں کی حمایت کا الزام عاید کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ قطر جی سی سی کے خلاف کام کررہا ہے اور ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی وکالت کررہا ہے۔مذکورہ تینوں ممالک نے قطر کے بائیکاٹ کے وقت اس کو تیرہ مطالبات پر مشتمل ایک فہرست پیش کی تھی لیکن اس نے ان مطالبات کو مسترد کردیا تھا۔