.

مغربی کنارہ: اسرائیلی فوج کا دھاوا، جھڑپوں میں 1 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی کنارے میں گزشتہ دو روز کے دوران کشیدگی میں اضافے کے بعد جمعے کو فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ اور ربڑ کی گولیوں سے ایک فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ مغربی کنارے میں 25 لاکھ سے زیادہ فلسطینی اور تقریبا 4 لاکھ یہودی آباد کار بستے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق جمعے کے روز فلسطینیوں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد اسرائیلی عسکری گاڑیوں نے مغربی کنارے کے دو شہروں البیرہ اور رام اللہ پر دھاوا بول دیا۔

جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب اسرائیلی فوج نے البیرہ شہر میں ایک گھر پر چھاپا مار کر اسے منہدم کرنے کی دھمکی دے دی۔ اس پر مکان میں موجود اہل خانہ کے کئی افراد دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔

جمعرات کے روز دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد قابض فوج نے رام اللہ شہر کے داخلی راستوں کو آہنی گیٹوں اور کنکریٹ بلاکوں سے بند کر دیا۔ علاوہ ازیں شہر کو آنے والے ذیلی راستوں پر عسکری چیک پوسٹیں قائم کر دی گئیں تا کہ راہ گیروں اور سواریوں کی تلاشی لی جا سکے اور فلسطینیوں کے رام اللہ پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔

اس سے قبل قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 40 فلسطینیوں کو گرفتار کر لینے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ اسرائیل اور اس کی فورسز کی سلامتی کو نشانہ بنانے والوں کو سخت ترین جواب دیا جائے گا۔

ادھر فلسطینی وزارت صحت کے اعلان کے مطابق جمعے کے روز رام اللہ کے شمال میں واقع الجلزون کیمپ میں جھڑپوں کے دوران قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک فلسطینی ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔ اسرائیلی فوج نے مذکورہ فلسطینی کو ایمبولینس کی گاڑی کے اندر سے گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکی۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی کی موت کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

مغربی کنارے میں بدھ اور جمعرات کے روز قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے چار فلسطینیوں کے جاں بحق ہونے کے خلاف فلسطینی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد احتجاجی مظاہرے کے سلسے میں سڑکوں پر آ گئی۔ اس دوران مغربی کنارے کے کئی شہروں میں فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔