.

یورپی یونین نے شام میں ترکی کے یک طرفہ اقدام کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی وزیر خارجہ فیڈریکا موگرینی نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں "کسی بھی یک طرفہ اقدام سے گریز کرے"۔ یہ مطالبہ ترکی کی جانب سے کردوں پر ایک نیا حملہ کرنے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔

ہفتے کے روز جاری بیان میں موگرینی کا کہنا تھا کہ شام کے شمال مشرقی حصے میں ترکی کے ایک نئے ممکنہ عسکری آپریشن سے متعلق بیانات تشویش کا باعث ہیں۔

یورپی یونین کی وزیر خارجہ کے مطابق داعش تنظیم کا راستہ روک دینے کی کارروائی "اپنے حتمی مرحلے" میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ داعش کی ہزیمت کو یقینی بنانے کے واسطے کام کریں کیوں کہ شام کے بحران کے کسی بھی حل کے سلسلے میں اس سے بے نیاز نہیں رہا جا سکتا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ ترکی واشنگٹن کے حمایت یافتہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے خلاف عسکری آپریشن کرے گا۔ اس کے نتیجے میں امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) خبردار کرنے پر مجبور ہو گئی کہ اس طرح کا کوئی بھی عسکری آپریشن قابل قبول نہیں ہو گا۔