اوپیک ممالک کے اتفاق رائے تک پہنچنے پر ایرانی وزیر تیل کی جانب سے ستائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران کے وزیر تیل بیژن نامدار زنگنہ نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم "اوپیک" کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم اختلافات کے باوجود اتفاق رائے تک پہنچنے کی قدرت رکھتی ہے۔

اوپیک اور روس کی قیادت میں تنظیم کے حلیف ممالک نے سات دسمبر کو تیل کی پیداوار میں توقع سے زیادہ کمی لانے پر اتفاق رائے کیا اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خام تیل کی قیمت میں کمی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔

ایرانی وزیر تیل زنگنہ نے ہفتے کے روز اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ اوپیک تنظیم نے اس قدرت کا اظہار کیا کہ اس کے رکن ممالک شدید سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کے ذریعے اپنے مشترکہ مفادات سے متعلق اہم نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔

اوپیک تنظیم اور اس کے رکن ممالک آئندہ سال کی ابتدا سے یومیہ پیداوار میں 12 لاکھ بیرل کی کمی لانے پر متفق ہو گئے۔ آئندہ سال اپریل میں اوپیک کے اجلاس میں اس اقدام پر نظر ثانی کی جائے گی۔

عراقی وزیر تیل ثامر الغضبان نے ویانا میں اوپیک کی دو روزہ بات چیت کے اختتام کے بعد بتایا تھا کہ تنظیم یکم جنوری سے اپنی یومیہ پیداوار میں 8 لاکھ بیرل کی کمی کرے گی جب کہ اوپیک کے حلیف ممالک اپنی مجموعی پیداوار میں یومیہ 4 لاکھ بیرل کی کمی کریں گے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں