حوثی ملیشیا سویڈن معاہدے سے رُوگردانی کر رہی ہے: یمنی وزیر اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ سویڈن مذاکرات میں شریک حوثیوں کا وفد طے پائے گئے معاہدے پر عمل درامد سے دو روز قبل اس سے رُوگردانی کی کوشش کر ہا ہے۔ یہ بیان حوثیوں کے وفد کے ایک رکن عبد الملک العجری کی اُس ٹوئیٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا کہ سویڈن معاہدے میں الحدیدہ کی بندرگاہ کو حوالے کرنا یا الحدیدہ سے حوثیوں کا انخلا شامل نہیں بلکہ سمجھوتے میں صرف یہ بات شامل ہے کہ الحدیدہ شہر کے اطراف سے عرب اتحاد کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی فورسز کو ہٹا لیا جائے۔

یہ بیان یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس اور اقوام متحدہ کے موقف کے صریح برخلاف ہے۔

یمن کی آئینی حکومت نے حوثیوں کے موقف کو سویڈن معاہدے سے کھلی بغاوت شمار کیا ہے ، وہ معاہدہ جس پر کیے گئے دستخط کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی ہے۔ یمنی حکومت کے مطابق سمجھوتے کے متن میں الحدیدہ، اس کی بندرگاہوں، الصلیف اور ورأس عيسى سے حوثیوں کا انخلا شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے سمجھوتے کی پاسداری کریں اور اسٹاک ہوم معاہدے کی شقوں پر فوری عمل درامد کو یقینی بنائیں۔

ذرائع کے مطابق سویڈن معاہدے کے نفاذ کا آغاز منگل سے ہو گا۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں