سعودی عرب نے اپنے اندرونی معاملات میں امریکی سینیٹ کی مداخلت کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار ذریعے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "سعودی عرب حال ہی میں امریکی سینیٹ کی جانب سے سامنے آنے والے اس موقف کو مسترد کرتا ہے جو بے بنیاد دعوؤں اور الزامات پر مشتمل ہے۔ یہ سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے جس نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مملکت کے کردار کو بھی لپیٹ میں لیا ہے۔

سعودی عرب جہاں امریکا کے ساتھ تعلقات جاری رکھنے اور انہیں مضبوط بنانے کا خواہاں ہے وہاں وہ ایک حلیف اور دوست ریاست کے معتبر ادارے کے ارکان کی جانب سے اس طرح کا موقف سامنے آنے پر حیران بھی ہے۔ مملکت کے امریکا کے ساتھ گہرے تزویراتی، سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی روابط ہیں جو برسوں سے دونوں ممالک اور ان کے عوام کے مفاد میں کام آ رہے ہیں۔

سعودی عرب اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی مداخلت، خادم حرمین یا ولی عہد کو کسی بھی شکل میں نشانہ بنانے یا مملکت کی خود مختاری یا سیادت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو یکسر مسترد کرتا ہے۔

سعودی عرب یہ باور کراتا ہے کہ اس طرح کا موقف مملکت کے علاقائی اور عالمی کردار کو ہر گز متاثر نہیں کرے گا اور وہ عرب اور اسلامی دنیا میں قائدانہ کردار ادا کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ مملکت توانائی کی منڈیوں میں توازن کو برقرار رکھنے کے ذریعے عالمی معیشت کو مستحکم رکھنے میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں عسکری، سکیورٹی، مالیاتی اور نظریاتی میدانوں میں سعودی عرب کی مرکزی کوششوں نے داعش، القاعدہ اور اس جیسی دیگر دہشت گرد تنظیموں کی کمر توڑ دینے اور دنیا بھر میں لا تعداد بے قصور جانوں کو ضائع ہونے سے بچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مملکت نے دہشت گردی کی بیخ کنی کے واسطے اسلامی عسکری اتحاد قائم کیا۔ علاوزہ ازیں وہ خطے میں ایران کی منفی سرگرمیوں کا سامنا کرنے میں امریکا کے شانہ بشانہ رہا۔

اسی دوران سعودی عرب نے یمن کے بحران کے لیے سیاسی حل کی تلاش کے سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ مملکت اس حوالے سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2216، خلیجی منصوبے اور یمن کی قومی مکالمہ کانفرنس کے اعلامیے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ سعودی عرب نے یمن میں انسانی صورت حال کو انتہائی اہمیت کا حامل سمجھ کر کنگ سلمان امدادی مرکز کے ذریعے تمام علاقوں میں یمنی عوام کے واسطے بڑے پیمانے پر غذائی امداد اور دیگر ضروری اشیاء پہنچائیں۔ اس سلسلے میں مملکت مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے۔


اس سے پہلے بھی یہ باور کرایا جا چکا ہے کہ سعودی شہری جمال خاشقجی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ناقابل قبول جرم ہے اور یہ عمل مملکت کی پالیسی اور اس کے اداروں کی روش کی نمائندگی نہیں کرتا۔

مملکت سعودی عرب اس بات کا ادراک رکھتی ہے کہ امریکی سینیٹ کا تازہ موقف ہر اس شخص کو غلط پیغام پہنچائے گا جو سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تعلقات میں دراڑ دیکھنے کا خواہاں ہے۔ سعودی عرب امید کرتا ہے کہ اس کے سبب امریکا میں اندرونی سیاسی جنگ و جدل میں نہیں پڑا جائے گا تا کہ دونوں ملکوں کے بیچ اہم اور تزویراتی تعلقات پر کسی طور بھی منفی اثرات مرتب نہ ہوں"۔

واضح رہے کہ امریکی سینیٹ نے جمعرات کے روز اتفاق رائے سے ایک قراردار منظور کی تھی جس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو معروف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں قتل کا ملزم قرار دیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ سعودی عرب اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو ذمے دار ٹھہرائے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں