.

مصر کی پہلی مسجد کے لیےقاہرہ سے باہر جگہ کیوں مختص کی تھی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں یہ بات مشہور رہی ہے کہ فاتح مصر حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے مصرکی پہلی مسجد پرانے قاہرہ کے علاقے"الفسطاط" میں تعمیر کرائی تھی اور یہ مسجد ان کے قاہرہ میں داخل ہونے کےکچھ عرصے بعد تعمیر کی گئی تھی، مگر یہ بات خلاف واقعہ ہے۔

اسلامی فتح کے بعد مصر اور افریقا کی پہلی مسجد"سادات قریش" نامی مسجد ہے جسے حضرت عمرو بن العاص نے شمال مشرقی گورنری بلبیس میں تعمیر کرایا اور یہ مسجد 18 ھجری میں تعمیر کی گئی تھی۔

مصری ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالرحیم ریحان کی تحقیق کے مطابق حضرت عمر بن العاص نے رومیوں کےخلاف صحرائے بلبیس میں‌میدان میں مسجد تعمیرکرائی تھی۔'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے انہوں‌نےکہا کہ '،مسجد سادات قریش' کے لیے ایک وسیع جگہ مختص کی گئی۔ اس کے اطراف میں قبیلہ قریش سے تعلق رکھنے والے کئی صحابہ کرام بھی آسودہ خاک ہیں جو اس جنگ میں شہید ہوگئے تھے۔

ایک سوال کے جاب میں ڈاکٹر ریحان نے کہا کہ مشرقی گورنری مصر میں داخلے کا راستہ ہوا کرتاتھا۔ مصر میں یہی وہ علاقہ ہے جہاں سب سے پہلے صحابہ کرام نے قدم رکھا۔ یہاں کئی ایک تاریخی مساجد ہیں۔ مسجد 'سادات قریش' کی وجہ سے وہاں پر بلبیس شہر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ یہ شہر مصرانے والوں کی پہلی گذرگاہ ہوتی۔ شاہ صالح ایوب کا استقبال بھی اسی جگہ کیا گیا تھا۔

مصری آثار قدیمہ کے ماہر کا کہنا ہے کہ مسجد سادات قریش کے قبلہ کی سمت کی دیوار کےساتھ چار گیلریاں ہیں۔ اس وقت یہ مسجد 3000 مربع میٹر پر تعمیر ہے اور اسے 'مسجد شہدا' کہا جاتا ہے۔ مسجد کی جگہ رومن لشکر اور مسلمانوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں کم سے کم 250 صحابہ کرام شہید ہوئے تھے۔ یہ جنگ صحابی رسول اور فاتح مصر حضرت عمربن العاص کی قیادت میں لڑئی گئی۔

مسجد شہدا یا مسجد سادات قریش بلبیس شہر کی مرکزی کاروباری شاہراہ بورسعید پرواقع ہے۔ یہ پورے عالم اسلام کی 13 ویں تاریخی مسجد ہے جسے عثمانی شہزادے مصطفیٰ الکاشف نے 13 ویں صدی میں دوبارہ تعمیر کرائی تھا۔

ڈاکٹر عبدالرحیم الریحان کا کہنا ہے کہ مسجد شہداء کی تعمیر مسجد نبوی کی طرز پر کی گئی ہے۔ تین سمتوں میں اس کے داخلی اور خارجی راستے موجود ہیں مگر شمال مشرقی سمت سب سے اہم جو اس کا مرکزی داخلی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ مسجد مستطیل شکل میں تعمیر کی گئی اور اس کےاندرونی حصوں میں پچی کاری کی گئی ہے۔