.

مصر:نابالغ بچوں کی شادی روکنے کے لیے حکومت کو مداخلت کرنا پڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں کم عمر افراد کی شادی کی خبریں آئے روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ ایک ایسی ہی خبر نے مصری عوام میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑا دی جس کے بعد حکومت کو مداخلت کرکے نابالغ بچوں کی شادی روکنا پڑی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کفر الشیخ میں اتوار کے روز 14 سال کے بچے اور اتنی ہی عمر کی ایک بچی کی شادی کی تقریب جاری تھی۔ دونوں کو ان کےدیگر رشتہ داروں سمیت پولیس نے شادی سے روک دیا۔

یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب نیشنل کونسل برائے نابالغان کو یہ اطلاع ملی کہ خلاف قانون کم عمر بچوں کی شادی کی ایک تقریب جاری ہے۔ کونسل کے حکام نے فوری کارروائی کرکے شادی روک دی۔

کونسل کی سیکرٹری جنرل عزہ العمشاوی نے کہا کہ واقعے کے بارے میں ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ کفر الشیخ میں بچوں کی نگہداشت کی ذمہ دار کمیٹی نے دونوں خاندانوں کو کم عمری کی شادی کے خطرات سے آگاہ کرنے اور دوبارہ ایسا کوئی اقدام کرنے سے سختی سے منع کردیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کم عمر دلہا اور دلہن کے خاندانوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ان دونوں کی شادی اس وقت تک نہ کریں‌جب تک وہ قانون کے مطابق اس کے مجاز نہیں‌ہوجاتے۔

خیال رہے کہ مصر میں بچے اور بچی کے لیے شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے مگر ملک میں کم عمری کی شادی کے پرانے رواج بھی چلتےرہتے ہیں۔