گولن کی ملک بدری کا منصوبہ ، ٹرمپ کے سابق مشیر کے شراکت دار پر الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر برائے سلامتی امور مائیکل فلن کے ایک سابق تجارتی شراکت دار پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے امریکا میں مقیم ترک مذہبی اسکالر فتح اللہ گولن کو ان کے ملک کے حوالے کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔

پیر کے روز ورجینیا کی ایک عدالت نے مائیکل فلن کے سابق (امریکی ایرانی) شراکت دار بیجان رفیقیان (66 سالہ) پر دو الزامات عائد کیے جن میں ایک الزام غیر ملکی حکومت کے مفاد میں کام کرنے کے حوالے سے سازش سے متعلق ہے۔

مذکورہ عدالت نے ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری شخص ایکم ایلپتکن (41 سالہ) پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ اس نے گولن کی ساکھ خراب کرنے اور ان کو کوچ کروانے کے لیے سازش میں حصہ لیا۔ فتح اللہ گولن اس وقت امریکی ریاست پینسلوینیا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن الزام لگاتے ہیں کہ 2016 میں ان کے خلاف فوجی انقلاب کی کوشش کی منصوبہ بندی گولن نے کی جب کہ گولن اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

عدالت کی جانب سے جاری الزامات کی فہرست میں بتایا گیا ہے کہ دونوں افراد نے ترک شہری (فتح اللہ گولن) کی ساکھ برباد کرنے کی کوشش کی، سیاست دانوں اور عوام کی نظر میں اس شہری کی قانونی حیثیت ختم کرنے کے لیے کوشاں رہے اور اس کو امریکا سے کوچ کروانے کی ضمانت بھی دی۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں