الحدیدہ: حوثیوں کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر یمنی شہریوں کا اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں انسانی حقوق کے ذرائع کے مطابق سویڈن میں یمنی حکومت کے ساتھ (قیدیوں اور مغویوں کے تبادلے کے حوالے سے) معاہدے کے بعد سے باغی حوثی ملیشیا نے الحدیدہ میں شہریوں کے خلاف اغوا کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ منگل کو علی الصبح فائر بندی کے معاہدے کے نفاذ کے آغاز سے قبل حوثی اپنے زیر قبضہ شہر میں ہائی الرٹ ہو گئے ہیں اور ملیشیا کی مخالفت کرنے والا ہر شخص اب حوثیوں کے نشانے پر ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہریوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے کے باوجود ہر شخص کا باغی ملیشیا کے ساتھ تعاون کرنا اور اس پر نکتہ چینی نہ کرنا ،،، ناگزیر ہو چکا ہے۔

بہت سے مبصرین نے قیدیوں اور مغویوں کا معاملہ ختم کرنے کے حوالے سے حوثیوں کی سنجیدگی پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے کہ حوثیوں نے 7500 ناموں پر مشتمل فہرست پیش کی ہے جب کہ ان کی سابقہ فہرست میں 1800 افراد کے نام تھے ،،، گویا کہ بہت سے نام مقتولین کے ہیں۔

یمن میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور وکیل عبدالرحمن برمان کا کہنا ہے کہ 7500 افراد کے نام دینا یہ بہت زیادہ مبالغہ اور اس بات کی دلیل ہے کہ حوثی ملیشیا اس فہرست کے ذریعے سویڈن معاہدے پر عمل درامد کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر چکی ہے۔ برمان کے مطابق حوثیوں نے اپنے زیر قبضہ تمام صوبوں میں وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کی کارروائی شروع کر دی تا کہ نئے گرفتار شدگان کو جنم دیا جا سکے۔ اس سے خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ باغی ملیشیا ایک بار پھر اپنی جیلوں کو مغویوں سے بھر کر یمنی حکومت سے اپنے اُن قیدیوں کا تقاضا کرے گی جو سرکاری فوج کے ساتھ معرکہ آرائی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں