امریکا حزب اللہ کے خلاف غیر معمولی اقدامات کرے گا : اسرائیلی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکا لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے خلاف ایسے اقدامات کرے گا جن کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات نہیں بتائیں۔

بدھ کے روز ایک اقتصادی کانفرنس میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حزب اللہ ملیشیا درست نشانہ بنانے والے میزائلوں کے لیے نئے ٹھکانے بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سے قبل ستمبر میں اسرائیل نے بیروت ایئرپورٹ کے اطراف میزائل فیکٹریوں کا انکشاف کیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق حزب اللہ کے پاس اس وقت درجنوں گائیڈڈ میزائل موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے مجھے بیروت ایئرپورٹ کے نزدیک واقع زیر زمین ٹھکانوں کے بارے میں اطلاع دی تھی تا کہ میں ان کو منظر عام پر لاؤں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ مذکورہ ٹھکانے اب بند کیے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے باور کرایا کہ "یہ لوگ نئے ٹھکانے کھولنے کی کوشش میں ہیں مگر ان اقدامات کے ذریعے ہم انہیں درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کے حصول سے محروم کر دیں گے"۔

یاد رہے کہ بنیامین نیتن یاہو نے 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ایک تصویر پیش کی تھی جس کے بارے میں ان کا دعوی تھا کہ یہ بیروت ایئرپورٹ کے اطراف میں حزب اللہ کے زیر انتظام ہتھیاروں کے تین ڈپوؤں کی تصویر ہے اور ان میں ایک ہزار میزائل موجود ہیں۔

اسرائیل ایک سے زیادہ مرتبہ یہ دھمکی دے چکا ہے کہ وہ حزب اللہ کو ان میزائلوں کی فیکٹریاں قائم کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دے گا اور اس واسطے کسی بھی وقت حرکت میں آئے گا۔ ادھر لبنانی وزارت خارجہ بیروت ایئرپورٹ کے اطراف ان فیکٹریوں کے وجود کی تردید کر چکی ہے۔ لبنانی وزیر خارجہ چند ماہ قبل اپنے ساتھ متعدد صحافیوں اور مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو لے کر مذکورہ مقامات پر گئے تھے تا کہ اسرائیلی الزامات کو غلط ثابت کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں