عراق میں ایرانی سفیر کا تقریب چھوڑ کر جانا ، امریکا کی جانب سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ نے عراق میں ایرانی سفیر ایرج مسجدی کے ایک تقریب کو چھوڑ کر جانے کی مذمت کی ہے۔ یہ تقریب عراقی سکیورٹی فورسز اور الحشد الشعبی ملیشیا کے اُن ارکان کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی جنہوں نے داعش تنظیم کے خلاف معرکوں میں اپنی جانیں دے دیں۔

منگل کے روز امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے ٹوئیٹر پر ایرانی سفیر کے تقریب سے جانے کی وڈیو پوسٹ کی گئی۔ اس کے ساتھ کی گئی ٹوئیٹ میں لکھا گیا کہ "اس طرح کا تصرف اگر سفارتی عُرف کی کھلی خلاف ورزی نہیں تب بھی اسے میزبان ملک اور اس کے عوام کے عدم احترام سے کم نہیں قرار دیا جا سکتا"۔

ساتھ ہی یہ استفسار بھی کیا گیا : "مگر ایران میں حکمراں نظام نے کسی سفارتی عرُف کو تسلیم ہی کب کیا ہے؟".

یاد رہے کہ داعش کے خلاف کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر ہفتے کے روز بغداد میں ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔ تقریب کا انعقاد "البناء" سیاسی اتحاد کی جانب سے کیا گیا تھا۔ تقریب میں شریک ایرانی سفیر ایرج مسجدی اچانک تقریب چھوڑ کر چلے گئے۔

تقریب کے وڈیو کلپ میں ایرانی سفیر کو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ تقریب کے مقام سے اُس وقت روانہ ہو گئے جب تقریب کی نظامت انجام دینے والے نے "شہداءِ عراق" کے لیے حاضرین سے کھڑے ہونے کی درخواست کی۔

ایک باخبر ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ایرانی سفیر تقریب کا ہال چھوڑ کر چلے گئے اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر واپس نہیں لوٹے۔

دوسری جانب ایرانی سفارت خانے نے ایک بیان میں ایرانی سفیر کے اچانک چلے جانے کا جواز پیش کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ایرج مسجدی نے یہ گمان کیا کہ تقریب ختم ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ تقریب میں شریک کوئی شخص بھی اُس وقت واپسی کے لیے روانہ نہیں ہوا تھا اور تقریب کے ناظم نے واضح طور پر حاضرین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عراقی مقتولین کے احترام میں کھڑے ہو جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں