.

لبنان: خزانے اور خارجہ امور کے وزراء برقرار رہیں گے، نئی کابینہ کی جلد تشکیل متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے موجودہ وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ قومی اتحاد کی نئی حکومت میں اپنے اپنے مناصب پر برقرار رہیں گے۔یہ بات لبنان کے سیاسی ذرائع نے بدھ کو بتائی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نئی کابینہ کی تشکیل اب جلد متوقع ہے۔

لبنان میں عام انتخابات کے انعقاد کے بعد گذشتہ سات ماہ سے نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے سیاسی رسہ کشی جاری ہے۔کابینہ کے اہم عہدوں کے لیے لبنان کے مختلف سیاسی دھڑوں اور فرقوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے وزیراعظم سعد الحریری کے زیر قیادت نئی کابینہ کی تشکیل میں تاخیر ہوئی ہے۔

لبنان میں 6 مئی کو عام انتخابات منعقد ہوئے تھے اور یہ نو سال کے بعد ملک میں پہلے انتخابات تھے۔ان میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اس کے سیاسی اتحادیوں نے پارلیمان کی کل 128 میں سے 70 نشستیں جیت لی تھیں۔سعد الحریری کی قیادت میں مستقبل اتحاد ایک تہائی نشستیں ہار گیا تھا۔تاہم صدر میشعل عون نے انھیں ہی ملک کے بڑے سنی لیڈر کی حیثیت سے وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔

لبنان کے نگران وزیر خارجہ جبران باسل نے پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’ ہم حکومت کی تشکیل کے قریب تر پہنچ چکے ہیں۔باقی تفصیل میں دو دن سے زیادہ نہیں لگیں گے اور ہم حکومت قائم کرلیں گے‘‘۔

ایک سیاسی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ نبیہ بری کے معاون علی حسن خلیل وزیر خزانہ کے منصب پر برقرار رہیں گے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر میشیل عون کے داماد اور وزیر خارجہ جبران باسل بھی نئی کابینہ میں اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔صدر عون 2006ء سے حزب اللہ کے اتحادی چلے آرہے ہیں اور وہ اس ملیشیا کے پاس ہتھیار رکھنے کے حق میں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ لبنان کے اسرائیل سے دفاع کے لیے یہ ہتھیار ضروری ہیں۔

حزب اللہ نئی حکومت میں تین وزراء نامزد کرے گی۔اس طرح اس کو سبکدوش ہونے والی حکومت کی نسبت ایک مزید وزارت مل جائے گی۔سابق کابینہ میں اس کی دو وزارتیں تھیں اور ان میں ایک صحت کی وزارت تھی ۔وہ نئی حکومت میں بھی یہ وزارت اپنے پاس رکھے گی۔

صدر عون کے سیاسی بلاک سے تعلق رکھنے والے الیاس بو صاب ملک کے نئے وزیر دفاع ہوں گے۔وزارت ِداخلہ وزیراعظم حریری کی مستقبل تحریک ہی کے پاس رہے گی۔

واضح رہے کہ لبنان کی معیشت قرضوں کے سہارے زندہ ہے اور وہ اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں دنیا کا تیسرا بڑا مقروض ملک ہے۔اس کی معیشت کی بحالی اور قرضوں کی ادائی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ملکوں نے اپریل میں 11 ارب ڈالرز کی امداد دینے کے وعدے کیے تھے لیکن ملک میں نئی حکومت کی تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے ان وعدوں کو ایفا نہیں کیا جاسکا ہے۔