.

امریکی اسلام پسند خواتین کارکنان نے حسن البنا کے نواسے کے اسکینڈل کو نظرانداز کیوں کِیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بعض حلقوں کی جانب سے یہ استفسار کیا جا رہا ہے کہ الاخوان المسلمین کے بانی حسن البنا کے نواسے اور اسلامی اسکالر طارق رمضان کے جنسی ہراس اور حملوں سے متعلق معاملے میں مغربی دنیا کی اسلام پسند سرگرم خواتین کیوں نہیں نظر آ رہیں۔ یہ سوال اس وجہ سے سامنے آیا ہے کہ یہ خواتین بالخصوص مغربی دنیا میں خود کو خواتین کی عزت و ناموس اور آزادی کا دفاع کرنے والوں کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ اس حوالے سے امریکا کی دو بنیاد پرست خواتین کارکنان فلسطینی نژاد لنڈا صرصور اور صومالی نژاد الہان عمر کے نام نمایاں ترین ہیں۔ الہان عمر نے کچھ عرصہ قبل امریکی کانگریس میں نشت پر کامیابی حاصل کی۔

عصمت دری اور کم سن لڑکیوں کے خلاف جنسی ہراس کی کارروائیوں کے الزامات کی روشنی میں فرانسیسی حکام نے طارق رمضان کو زیر حراست رکھا۔ تاہم فرد جرم عائد کیے جانے کے باوجود بھی CAIR،ISNA،ICNA اور MASجیسی اسلامی تنظیموں کی جانب سے کسی درجے میں بھی طارق کے افعال کی مذمت سامنے نہیں آئی۔

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کیئر تنظیم کے سابق ڈائریکٹر احمد بدیر نے طارق کا نشانہ بننے والی ایک خاتون ہند عیاری کے دعوے کو طارق رمضان کے ساتھ سیاسی اختلاف کا شاخسانہ قرار دیا۔

واضح رہے کہ رمضان نے دو برس قبل 2016 میں امریکا میں مسلمانوں کے دو سب سے بڑے اجتماعات سے خطاب کیا تھا۔ ان میں ایک تو (ISNA) اور (MAS-ICNA) تنظیموں کی جانب سے منعقد کانفرنس تھی اور دوسریCAIR تنظیم کی سالانہ کانفرنس تھی۔

اسی طرح خود کو خواتین کے حقوق کا علم بردار ظاہر کرنے والی فلسطینی نژاد لنڈا صرصور اور صومالی نژاد رکن کانگریس الہان عمر نے طارق رمضان کی طرف سے باہمی رضامندی کے ساتھ زنا کے ارتکاب کے اعتراف کے بعد بھی حسن البنا کے نواسے کی کارستانی پر اپنی خاموشی نہیں توڑی۔ ان خواتین کی جانب سے طارق رمضان کے ہاتھوں عصمت دری اور جنسی ہراس کا شکار ہونے والی عورتوں کے ساتھ کسی قسم کی یک جہتی کا اظہار نہیں کیا گیا جب کہ کئی کم سن اور معذور لڑکیاں بھی شیطانیت کی لپیٹ میں آئیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ خود طارق رمضان اس سے قبل اُس وقت لنڈا صرصور کا دفاع کر چکے ہیں جب امریکیوں، عربوں اور مسلمانوں کی جانب سے Women March کی قیادت پر لنڈا کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ لنڈا کی رکن کانگریس دوست الہان عمر نے مارچ 2018 میں دنیا بھر میں خواتین کو جنسی ہراس کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف مہم ME TOO کی بھرپور تائید اور حمایت کی تھی ،،، تاہم اس حوالے سے اپنے بیان میں انہوں نے طارق رمضان کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والی کسی بھی خاتون کا ذکر کرنے سے گریز کیا۔

"كيئر" تنظیم کو امریکا میں الاخوان المسلمین کی چھتری شمار کیا جاتا ہے۔ صومالی نژاد الہان عمر ریاست مینی سوٹا میں کیئر تنظیم کی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی سرگرم نظر آتی ہیں۔ فلسطینی نژاد لنڈا صرصور کے ساتھ الہان کے قریبی تعلقات ہیں۔

یہ بات بھی سامنے آئی کہ مغربی دنیا میں اسلام پسند خواتین کی جانب سے کئی مرتبہ مصلحتی ہم آہنگی کے مقصد سے سقوطِ حمل کے متعلق "بائیں بازو" سے تعلق رکھنے والی خواتین کے موقف کی تائید کی گئی۔ سقوط حمل مغرب میں قدامت پرستوں اور بائیں بازو کے حلقوں کے درمیان جاری تنازع کا ایک مرکزی موضوع ہے۔

لنڈا صرصور اپنے فیس بک پیج پر عورتوں کے سقوط حمل کے حق کی تائید کر چکی ہیں۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ لندا نے اس موقع پر اُن بچوں کے بارے میں بات نہیں کی جو ناجائز تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ مذکورہ موضوع پر بات کرنے سے وہ بائیں بازو کی اور بہت سی لبرل جماعتوں کی تائید سے محروم ہو جائیں گی ، یہ جماعتیں شادی کے بغیر بھی مرد اور عورت کے درمیان تعلقات کے قیام پر یقین رکھتی ہیں۔

ایسے میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ لنڈا صرصور اور الہان عمر کی Women March میں شرکت کو کسی بھی صورت مغرب میں مسلمان خواتین کی نمائندگی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جب کہ وہ خواتین کی آزادی کی بات مغرب کے لبرل حلقوں کے نظریات کی روشنی میں کرتی ہیں ؟