شام سے امریکی فوج کی واپسی کے فیصلے کا پیشگی علم تھا: کرد عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام سے امریکی فوج کی واپسی کے اعلان پر جہاں امریکا نواز قوتوں کو تشویش ہوئی ہے وہیں ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے فوج واپس بلانے کے فیصلے کا انہیں بہ خوبی علم تھا۔

شمالی اور شمال مشرقی شام میں‌کرد جنگجوئوں کی سفارتی تعلقات کمیٹی کے ترجمان کمال عاکف نے انکشاف کیا کہ شام سے امریکی فوج کے انخلاء کا فیصلہ اچانک نہیں بلکہ انہیں پہلے سے اس کا علم تھا۔

'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام سے امریکی فوج کی واپسی کا فیصلہ نا مناسب ہے اور اس کے محاذ جنگ پر منفی اثرات مرتب ہوں‌گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں 'داعش' کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے دوگنا کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی فیصلے کے نتیجے میں شام میں انتہا پسندی کی جڑیں دوبارہ پھیلنے اور داعش کو دوبارہ نشو نما پانے میں مدد ملے گی۔ کمال عاکف نےکہا کہ داعش صرف مقامی خطرہ نہیں جسے نظرانداز کردیا جائے بلکہ یہ تنظیم پوری دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کارروائی پوری قوت کے ساتھ جاری رہنی چاہیے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں موجود امریکی فوج کی واپسی کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام کی لڑائی میں اب امریکی فوج کا کوئی کردار باقی نہیں رہا ہے اور ہم اس جنگ میں اپنی فوج کو مزید نہیں جھونکیں‌گے۔

امریکی صدر کے شام سے فوج واپس بلانے کے فیصلے پر ان کے اتحادی ممالک حتیٰ کہ ان کی اپنی جماعت نے بھی شدید تنقید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں