شام میں مشن مکمل نہیں ہوا، امریکی فوج کےانخلاء کا فیصلہ مہلک ہے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی وزیر دفاع فلورینس پارلے نے آج جمعہ کو ایک بیان میں شام سے امریکی فوج کے انخلاء کے اعلان کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں ابھی ہمارا مشن ادھورا ہے اور امریکی فوج کے انخلاء کا فیصلہ 'مہلک' ثابت ہوگا۔
خیال رہے کہ بدھ کے روز وائیٹ ہائوس نے شام میں موجود امریکی فوج کی ایک سو روز کےاندر واپسی کا اعلان کیا تھا۔امریکی حکومت کا کہنا ہےکہ 'داعش کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بعد اب شام میں امریکی فوج کی موجودگی کی ضرورت نہیں تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں ہوسکتا کہ امریکا نے اتحاد ختم کردیا یا اس کا مشن مکمل ہوگیا ہے'۔
جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں شام سے امریکی فوج کےانخلاء کے فیصلے کی توثیق کی تی اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں بلکہ پہلے سے طےشدہ پلان کا حصہ ہے۔
ٹرمپ نے 'ٹوئٹر' پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ شام سے انخلاء کا فیصلہ اچانک نہیں۔ میں کئی سال سے اس کا مطالبہ کرتا رہا ہوں۔ چاھ ماہ قبل میں چاہتا تھا کہ شام سے امریکی فوج واپس بلا لی جائے تاہم اس وقت میں نے شام میں امریکی فوج کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ادھر فرانسیسی خاتون وزیر دفاع نے سبکدوش ہونے والے امریکی ہم منصب جیمز میٹس کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ فلورینس کا کہنا ہے کہ جیمز میٹس ایک عظیم سپاہی ہیں اور ہرطرح کے حالات میں ہمارے ساتھ معاونت کی۔
یاد رہے کہ جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ فروری کے آخر تک وزیر دفاع جیمز میٹس اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی جیمز میٹس کی جگہ نئے وزیر دفاع کا نام پیش کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں