.

ترکی سے قریباً تین لاکھ شامی مہاجرین کی وطن واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی سے قریباً تین لاکھ شامی مہاجرین اپنے آبائی وطن کو لوٹ گئے ہیں۔ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئلو نے ہفتے کے روز ایک تقریر میں کہا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں ترکی کی دو فوجی کارروائیوں کے بعد ان شامی مہاجرین کی واپسی ممکن ہوئی ہے۔

انھوں نے شمال مغربی صوبے عدرن میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ دو فوجی کارروائیوں کے بعد سے ہمارے 291790 شامی بہنیں اور بھائی اپنے وطن کو لوٹ گئے ہیں‘‘۔

ترک فوج کی معاونت اور پشت پناہی سے شامی باغیوں نے اگست 2016ء میں شام کے شمالی علاقے میں فرات کی ڈھال کے نام سے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور انھوں نے داعش سے یہ علاقے چھین لیے ہیں۔ جنوری سے مارچ 2017ء کے درمیان ترک فوج کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے شمال مغرب میں واقع شہر عفرین کا کنٹرول امریکا کی حمایت یافتہ کرد ملیشیا سے واپس لے لیا تھا ۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اگلے روز شمالی شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس ( وائی پی جی) کے خلاف بہت جلد ایک نئی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ بدھ کو شام سے اپنے دوہزار فوجیوں کو واپس بلانے کے اعلان کے بعد ترک صد ر نے کہا ہے کہ کرد ملیشیا اور داعش کے خلاف آیندہ مہینوں کے دوران میں کارروائی کی جائے گی۔ ترکی وائی پی جی کو کالعدم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کی اتحادی قرار دیتا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی میں اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین مقیم ہیں۔ان میں قریباً 35 لاکھ شامی مہاجرین ہیں جو شام میں 2011ء میں خانہ جنگی چھڑنے کے بعد اپنا گھربار چھوڑ کر ترکی آگئے تھے اور قریباً تین لاکھ عراقی مہاجرین ہیں۔ وہ داعش کے خلاف عراقی سکیورٹی فورسز کی جنگ کے بعد مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

ان دونوں ممالک کے علاوہ ہزار کی تعداد میں افغان بھی اس سال کے دوران میں غیر قانونی طور پر ترکی میں آئے ہیں ۔ وزیر داخلہ سلیمان سوئلو نے بتایا ہے کہ اس سال اب تک 96 ہزار افغانوں کی ملک میں آمد ہوئی ہے۔ان میں سے 30 ہزار کو بے دخل کرکے واپس بھیج دیا گیا تھا۔گذشتہ سال 46 ہزار افغان ترکی میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں پکڑے گئے تھے۔