.

عراقی وزیراعظم کا مائیک پومپیو سے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا پر تبادلہ خیال

شام سے انخلا کے باوجود عراق اور دوسرے علاقوں میں داعش کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکا شام سے اپنے فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کے باوجود عراق اور دوسرے علاقوں میں داعش کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

عراقی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’’امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے عادل عبدالمہدی سے فون پر گفتگو کی ہے اور انھیں شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کی تفصیل سے آگاہ کیا ہے۔انھوں نے امریکا کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عراق اور دوسرے علاقوں میں داعش اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا‘‘۔

صدرڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ بدھ کو جنگ زدہ شام سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ داعش کو شام میں شکست ہوچکی ہے جبکہ برطانیہ اور فرانس نے ان کے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔برطانیہ کا کہنا ہے کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ میں ابھی بہت کچھ کیا جانا چاہیے۔فرانس نے داعش کے خلاف جنگ میں اپنی فوجی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ اور وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے امریکا کی جانب سے عراق کو ایران سے گیس خرید کرنے کے لیے 90 روز تک دیے جانے والے پابندیوں کے استثنا کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نومبر میں ایران کے خلاف جوہری پروگرام کو جاری رکھنے اور مشرقِ اوسط میں مداخلت کے الزام میں دوبارہ پابندیاں عاید کردی تھیں ۔ان کی تحت اس کی توانائی کی برآمدات کو ہدف بنایا گیا ہے۔ تاہم اس نے عراق سمیت بعض ممالک کو ایران سے 45 روز تک تیل اور گیس خرید کرنے کی اجازت دے دی تھی اور اس دوران میں ان پر امریکی پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔عراقی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں کسی اور ملک سے گیس کی درآمد کا بندوبست کرنے کے لیے کم سے کم دو سال درکار ہوں گے۔

عراق اپنے پاور اسٹیشنوں کے لیے ایرا ن سے قریباً ڈیڑھ ارب مکعب فٹ روزانہ گیس پائپ لائنوں سے درآمد کرتا ہے۔ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں کو ایرانی گیس سے چلنے والے پاور اسٹیشنوں سے ہی بجلی مہیا کی جاتی ہے۔