.

شام: ترکی کی درجنوں فوجی گاڑیاں منبج کے دیہی علاقے میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق ہفتے کے روز ترکی کا ایک فوجی قافلہ منبج کے دیہی علاقے کی جانب داخل ہوتا دکھائی دیا۔ یہ قافلہ درجنوں فوجیوں اور 50 سے زیادہ عسکری گاڑیوں پر مشتمل تھا جن میں ٹرک، وینیں اور بکتربند گاڑیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود شامل ہے۔

دوسری جانب منبج عکسری کونسل نے دریائے فرات کے مغرب میں واقع اس علاقے پر ترکی کی فوج کے کسی بھی ممکنہ حملے یا فوجی آپریشن کے اندیشے کے پیش نظر عسکری تیاریوں کو بڑھا دیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی سپورٹ کے لیے تعینات دو ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیں گے۔ اس اعلان کے بعد ایس ڈی ایف کی صفوں میں ہائی الرٹ کی صورت حال دیکھی جا رہی ہے۔

ہفتے کے روز کردوں کی خود مختار انتظامیہ کے نمایاں رہ نما الدار خلیل نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ واشنگٹن پر یہ لازم ہے کہ شمالی شام سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد اس بات کی ضمانت دے کہ ترکی اس علاقے پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بین الاقوامی فیصلہ سامنے آنا چاہیے۔

خلیل کا کہنا تھا کہ امریکا اور دیگر ممالک جب یہاں موجود ہوں گے تو ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں۔

کرد رہ نما کے مطابق "امریکا کے کوچ کرنے کی صورت میں گویا کہ وہ ترکی سے کہہ رہا ہے کہ اب آپ حملہ کر سکتے ہیں کیوں کہ امریکیوں کی شام میں موجودگی کا مطالب ہے کہ ترکی حملہ کرنے پر قادر نہیں اس لیے کہ وہ امریکیوں کے ساتھ جھڑپ نہیں چاہتے"۔

اگرچہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن جمعے کے روز یہ اعلان کر چکے ہیں کہ فرات کے مشرق میں ترکی کا فوجی آپریشن ملتوی کر دیا گیا ہے تاہم کرد پروٹیکشن یونٹس کو خدشہ ہے کہ ترکی اُن کے علاقوں کے خلاف حملے کے حوالے سے اپنی دھمکیوں پر عمل کر گزرے گا۔