.

پارلیمنٹ کی تحلیل سے متعلق آئینی عدالت کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس تنظیم نے فلسطینی قانون ساز کونسل (پارلیمنٹ) کے تحلیل کیے جانے سے متعلق آئینی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اس فیصلے کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جس سے حقیقت تبدیل نہیں ہو گی"۔

ہفتے کی شام جاری بیان میں تنظیم نے کہا کہ "آئینی عدالت کی تشکیل اپنی نوعیت کے لحاظ سے کالعدم ہے لہذا کالعدم کی بنیاد پر کیا جانے والا فیصلہ بھی کالعدم ہوتا ہے"۔

اس سے قبل فلسطینی صدر محمود عباس نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ آئینی عدالت نے قانون ساز کونسل (پارلیمنٹ) کی تحلیل کا فیصلہ جاری کیا ہے اور ساتھ ہی چھ ماہ کے اندر قانون ساز کونسل کے انتخابات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ فلسطینی اتھارٹی آئینی عدالت کے فیصلے کی پاسداری کرے گی۔

فلسطینی مصالحت کے حوالے سے محمود عباس کا کہنا تھا کہ "مصالحت کے متعلق میں نے جو منصوبہ پیش کیا ہے اس کا ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا"۔ انہوں نے فلسطینیوں کے درمیان انقسام کو ختم کرنے کے واسطے مصر کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔