.

سعودی عرب کے صوبے جازان میں شہد کی پیداوار سوا لاکھ کلو گرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کا صوبہ جازان زراعت کے شعبے میں روز بروز ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اس ترقی کے اقتصادی اور سماجی اثرات مقامی کاشت کاروں پر واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق جازان کے قدرتی وسائل اور جغرافیائی محل وقوع نے زراعت کے شعبے میں ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب میں ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت نے اپنے اہداف کے حصول کے لیے ثمر آور مںصوبوں پر عمل درامد کی رفتار تیز کر دی ہے۔ اس کا مقصد ویژن 2030 پروگرام سے ہم آہنگ رہ کر مملکت کے شہریوں کے لیے غذائی اور آبی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

جازان کے پہاڑی علاقوں کے ضلعوں میں کافی اور شہد کی پیداوار حوصلہ افزا ہے۔ ادھر ہموار علاقوں میں مختلف پھلوں اور سبزیوں کی کاشت پھیلی ہوئی ہے۔

غذائی تحفظ کے ضمن میں شہد کی پیداوار کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق جازان صوبے میں 107 مگس بان مصروف عمل ہیں۔ ان کے پاس شہد کے تقریبا 244082 چھتے موجود ہیں جن سے 1.22 لاکھ کلو گرام کے قریب مقامی شہد تیار ہوتا ہے۔

ہفتے کے روز العیدابی ضلعے میں چوتھے جازان شہد فیسٹول کا آغاز ہوا۔ اس میلے کا مقصد صوبے میں بالعموم اور العیدابی ضلعے میں بالخصوص شہد کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔

فیسٹول کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور جازان صوبے میں مگس بانوں کی انجمن کے رکن سلیمان بن یحیی الغزوانی نے واضح کیا کہ "انتظامیہ چاہتی ہے کہ عرب دنیا اور بین الاقوامی سطح پر شہد کی مکھیوں کی پرورش سے متعلق جدید ترین آلات اور ساز و سامان کو ایک جگہ فراہم کیا جائے۔ علاوہ ازیں میلے میں شرکت کرنے والوں کو جدید ترین سائنسی تحقیقات اور ایجادات کے حوالے سے آگاہی دی جائے۔ فیسٹول میں مگس بانوں کے لیے خصوصی پروگرام بھی ترتیب دیے گئے ہیں تا کہ وہ اپنی شہد کی مصنوعات کو مملکت اور خلیج کے علاقوں میں بہتر طور پر پیش کر سکیں"۔