اسرائیلی پارلیمان تحلیل ، اپریل میں قبل از وقت عام انتخابات ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کی مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں نے پارلیمان ( الکنیست) کو تحلیل کرنے اور آیندہ سال اپریل میں قبل از وقت عام انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سوموار کے روز الکنیست میں ایک نیوز کانفرنس میں اس فیصلے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہوں نے اتفاق رائے سے الکنیست کو توڑنے اور اپریل کے اوائل میں نئے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب پارلیمان کے اسپیکر یولی یوئل ایڈلسٹین پارلیمانی گروپوں کے لیڈروں کا اجلاس بلائیں گے اور ان کے مشورے سے نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو اس وقت مختلف محاذوں پر مشکلات کا سامنا تھا۔ 120 ارکان پر مشتمل الکنیست میں ان کی قیادت میں اتحاد کی صرف ایک رکن سے برتری تھی اور اس کے ارکان کی تعداد 61 تھی۔ سابق انتہا پسند وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین کے نومبر میں مستعفی ہونے اور ان کی جماعت کے حکومت سے نکل جانے کے بعد حکمراں اتحاد کو قانون سازی میں بھی مشکلات درپیش تھیں۔

حالیہ دنوں میں الٹرا آرتھو ڈکس یہود ی مردوں کو لازمی فوجی بھرتی سے مستثنا قرار دینے کے بل پر بھی مخلوط اتحاد کو بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس بحران کے پیش نظر بھی حکمراں اتحاد کے لیڈروں نے پارلیمان کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسرائیلی قانون کے تحت آیندہ عام انتخابات نومبر 2019ء میں ہونا تھے لیکن اب یہ سات ماہ قبل اپریل میں ہوں گے اور نیتن یاہو حکومت ان انتخابات کے نتیجے میں نئی کابینہ کی حلف برداری تک برسراقتدار رہے گی۔یہ حکومت مئی 2015ء میں اقتدار میں ہے۔

نیتن یاہو کو اس وقت بدعنوانیوں کے الزامات میں مختلف تحقیقات کا سامنا ہے۔تاہم اسرائیلی اٹارنی جنرل نے پولیس کی سفارشات کے مطابق ابھی تک ان کے خلاف فرد جرم عاید نہیں کی ہے۔اس کے پیش نظر یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ وہ عوام سے بیلٹ باکس کے ذریعے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوشش کریں گے۔انھوں نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔

انھوں نے ایسا بھی کوئی اشارہ نہیں دیا کہ اگر ان پر فرد جرم عاید کر دی جاتی ہے تو کیا وہ وزارت ِعظمیٰ کے منصب سے دستبردار ہوجائیں گے ۔اس سب کے باوجود رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق اسرائیلی عوام میں 69 سالہ نیتن یاہو اب بھی سب سے مقبول سیاسی لیڈر ہیں۔ان کی جماعت لیکوڈ میں سے بھی کسی لیڈر نے ان کی قیادت کو چیلنج نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں