ایران : مجلس تشخيص مصلحت نظام کے سربراہ کی وفات کے حوالے سے متضاد خبریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں پیر کے روز مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی کی وفات کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب خبر رساں ایجنسی "تسنيم" کے مطابق شاہرودی اپنے مرض سے جنگ کے بعد تہران کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں جبکہ ایران کی ایک سرکاری خبر رساں ایجنسی "اِرنا" نے "خاتم الانبياء" ہسپتال کے ڈائریکٹر کے حوالے سے شاہرودی کی وفات کی خبر کی تردید کی ہے۔ مذکورہ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ شاہرودی کی وفات کی افواہ بے بنیاد ہے اور وہ ابھی تک ہسپتال کےICU میں بے ہوش ہیں۔ اِرنا کے مطابق شاہرودی اس سے پہلے صحافیوں کو دیے گئے ایک بیان میں بتا چکے ہیں کہ وہ آنتوں کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

شاہرودی اپنی خراب صحت کے سبب کئی ماہ سے مجلس تشخیص مصلحت نظام کے اجلاسوں میں شریک نہیں ہو رہے۔

تہران کے ایک ہسپتال میں طویل عرصے سے زیر علاج شاہرودی نے آخری مرتبہ رواں سال 7 جولائی کو مجلس تشخیص مصلحت نظام کے اجلاس کی صدارت کی تھی۔

یاد رہے کہ رواں سال کے اوائل میں شاہرودی جرمنی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ اس موقع پر ہینوفر میں سیکڑوں ایرانیوں نے neurological treatment center کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین شاہرودی کے علاج کی منظوری پر مذکورہ طبی مرکز کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران فارسی اور جرمن زبانوں میں شاہرودی اور ایرانی نظام کے خلاف زوردار نعرے لگائے گئے۔

جرمنی میں سابق رکن پارلیمنٹ والکر پیک نے ایرانی مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ محمود ہاشمی شاہرودی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ شاہرودی کو حراست میں لے کر اُن کے خلاف "قتل اور انسانیت مخالف جرائم" کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے۔

یاد رہے کہ محمود ہاشمی شاہرودی کا شمار ایرانی نظام کے مرشد اعلی علی خامنہ ای کی مقرّب ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ ولی فقیہ کے منصب کی ممکنہ جاں نشینی کے حوالے سے بھی شاہرودی کا نام سرفہرست ہے۔ اگست 2017 میں خامنہ ای نے ایک فرمان کے ذریعے شاہرودی کو پانچ برس کے لیے مجلس تشخیص مصلحت نظام کا سربراہ مقرر کر دیا۔

ایرانی انقلاب کے بعد سے شاہرودی نے ایران میں کئی اعلی منصب سنبھالے۔ ان میں 1999 سے 2009 کے دوران ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا منصب شامل ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں شاہرودی پر سیاسی قیدیوں کے خلاف اجتماعی سزائے موت کے ارتکاب کا الزام عائد کرتی ہیں۔


ایرانی حلقوں نے شاہرودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں سرکاری ذمّے داران کو چاہیّے کہ سفر اور علاج کے سلسلے میں خود کو عوام پر ترجیح نہ دیں بالخصوص جب کہ ایرانی عوام صحت کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔

شاہرودی 1948 میں نجف میں پیدا ہوئے۔ وہ ایران اور عراق میں شیعوں کی ایک اہم مذہبی شخصیت شمار ہوتے ہیں۔ تاہم ایران میں بعض حلقوں نے شاہرودی کی عراقی شہریت کے سبب مرشد اعلی کی جاں نشینی کے واسطے اُن کی نامزدگی کو مسترد کر دیا ہے۔

بعض ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی شخصیات کے نزدیک شاہرودی کی عراقی شہریت اُن کے ایرانی مجلس خبرگان رہبری میں داخل ہونے یا مجلس تشخیص مصلحت نظام کی سربراہی سنبھالنے کے سامنے ایک بڑا اشکال ہے۔

دوسری جانب شاہرودی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عراق نے شاہرودی کی نجف میں پیدائش کے باوجود اُن کی ایرانی شہریت کو ختم نہیں کیا۔ شاہرودی کے والد نجف میں شیعہ مذہبی تربیت گاہ "حوزہ" میں تدریس سے وابستہ تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں