.

بعض جماعتیں لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل نہیں چاہتیں: نبیہ بری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا ہے کہ ملک میں بعض جماعتیں نئی حکومت کی تشکیل نہیں چاہتی ہیں۔ان کا یہ بیان لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل میں در آنے والی نئی رکاوٹوں اور پیچیدگیوں کا مظہر ہے۔

لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے گذشتہ ہفتے نمایاں پیش رفت ہوئی تھی ۔ بعض سرکاری ذرائع نے بتایا تھا کہ تمام جماعتوں میں اختلافی امور پر اتفاق رائے ہوگیا ہے اور نامزد وزیراعظم سعد الحریری کے زیر قیادت نئی حکومت میں وزارتوں کی تقسیم کا مسئلہ حل ہوگیا ہے ۔ان ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر نئی کابینہ تشکیل پاجائے گی۔

لیکن ہفتے کے روز بعض نئی پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں اور نبیہ بری نے لبنانی روزنامے الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ جو کچھ ہوا ہے،اس سے اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ لبنان میں بعض جماعتیں ایسی ہیں جو حکومت کی تشکیل چاہتی ہی نہیں ہیں‘‘۔

لبنان میں 6 مئی کو عام انتخابات منعقد ہوئے تھے اور یہ نو سال کے بعد ملک میں پہلے انتخابات تھے۔ان میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اس کے سیاسی اتحادیوں نے پارلیمان کی کل 128 میں سے 70 نشستیں جیت لی تھیں۔سعد الحریری کی قیادت میں مستقبل اتحاد ایک تہائی نشستیں ہار گیا تھا۔تاہم صدر میشال عون نے انھیں ہی ملک کے بڑے سنی لیڈر کی حیثیت سے وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔

واضح رہے کہ لبنان کی معیشت قرضوں کے سہارے زندہ ہے اور وہ اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں دنیا کا تیسرا بڑا مقروض ملک ہے۔اس کی معیشت کی بحالی اور قرضوں کی ادائی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ملکوں نے اپریل میں 11 ارب ڈالرز کی امداد دینے کے وعدے کیے تھے لیکن ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ان وعدوں کو ایفا نہیں کیا جاسکا ہے۔