مصرکی اپیل عدالت سے اخوان کے مرشد عام کو10 سال قید با مشقت کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر کی ایک اپیل کورٹ نے کالعدم مذہبی جماعت اخون المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع کو بنی سویف تشدد کیس میں معمولی تخیف کرتے ہوئے 12 سال کے بجائے 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ اخوان لیڈر کو اس کیس میں سنائی گئی یہ حتمی سزا ہے جسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے دیگر ملزمان کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔

خیال رہے کہ بنی سویف تشدد کیس 14 اگست 2013ء کو بنی سویف گورنری میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے حوالے سے دائر کیا گیا تھا۔ اخوان المسلمون کے رہ نمائوں پر بنی سویف میں سرکاری اور نجی املاک کی لوٹ مار، توڑپھوڑ اور پولیس اسٹیشن اور چرچ کونذرآتش کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

بنی سویف کی فوجی عدالت نے 12 ملزمان کو بنی سویف تشدد کیس میں عمر قید اور 77 ملزمان کو 15 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ملزمان میں اخوان المسلمون کے مرشد عام محمدبدیع، آزادی و انصاف کے سیکرٹری جنرل نہاد القاسم عبدالوھاب، جماعت کی شوریٰ‌کے سابق ارکان سید ہیکل اور خالد سید ناجی، عبدالرحمان شکری اور دیگر رہ نما شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں