.

تُرکی جلد دریائے فرات عبور کرنے کے لیے پرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویش اوگلو نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک شمالی شام میں فوج داخل کرنے کے لیے جلد از جلد دریائے فرات کے مشرقی کنارے کو عبور کرنا چاہتا ہے۔

رواں ماہ ترکی شام میں وسیع فوجی آپریشن کا اعلان کرچکا ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکا نے شام سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کیا جس کے بعد ترکی نے شاسم میں فوج داخل کرنے کی کوششیں مزید تیز کردی ہیں۔

اتوارکو ترک صدر طیب ایردوآن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کی صورت حال پربات چیت کی۔ دونوں رہ نمائوں نے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد پیدا ہونے والے خلاء کو پرکرنے پر اتفاق کیا۔

ترک وزیرخارجہ مولوجود جاویش اوگلو نے کہاکہ ترکی اور امریکا شام کے منبج شہر کے حوالے سے طے پائے معاہدے کو مکمل کرنےپرمتفق ہیں۔

ترکی اور امریکا کے درمیان منبج کے حوالے سے طے پائے معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ امریکا شہر سے کرد جنگجوئوں پر مشتمل پپپلز پروٹیکشن یونٹس کو وہاں سے بے دخل کرے گا۔ ترکی اس گروپ کو دہشت گرد قراردیتا ہے۔ ترک ٹی وی چینل کے مطابق وزیرخارجہ جلد روس کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ شام سے امریکی انخلاء کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔