.

دو سابق مصری صدور حسنی مبارک اور محمد مرسی پہلی مرتبہ عدالت میں آمنے سامنے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دو سابق صدور حسنی مبارک اور ڈاکٹر محمد مرسی کا پہلی مرتبہ دارالحکومت قاہرہ کی ایک عدالت میں آمنا سامنا ہوا ہے اور اوّل الذکر نے مؤخر الذکر کے خلاف عدالت میں گواہی دی ہے۔

ڈاکٹر محمد مرسی پر قاہرہ کی اس فوجداری عدالت میں حسنی مبارک کے خلاف 2011ء کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں جیل کی عمارتوں کو نقصان پہنچانے ، انھیں نذر آتش کرنے ، قتل ، اقدام ِقتل ، جیل کے اسلحہ ڈپو سے ہتھیاروں کو لوٹنے اور حماس ، حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے قیدیوں اور دوسرے مجرموں کو جیلوں سے بھگانے کے الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

حسنی مبارک نے بدھ کے روز ان کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ 25 جنوری انقلاب کے دوران میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 800 افراد نے مصر کی مشرقی سرحد سے دھاوا بولا تھا اور غزہ سے سرنگوں کے راستے مصر کی سرزمین میں داخل ہوئے تھے۔ان کے پاس ہتھیار تھے۔انھوں نے حزب اللہ ، حماس اور الاخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو رہا کرانے کے لیے جیلوں کا رُخ کیا تھا‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے وادی النطرون جیل کو توڑا تھا کیونکہ وہاں الاخوان المسلمون اور حماس سے تعلق رکھنے والے افراد قید تھے۔ ان حملہ آوروں نے شمالی سیناء میں پولیس افسروں کو قتل کیا تھا ۔ انھوں نے عدالت سے کہا کہ ان کے پاس مزید بھی معلومات ہیں لیکن انھیں افشا کرنے کے لیے ایوان ِ صدر سے اجازت کی ضرورت ہے۔

سابق مصری صدر نے کہا کہ ’’ غزہ کی سرنگوں کا معاملہ بہت پیچیدہ ہے۔ہم نے انقلاب سے قبل ان میں سے بہت سی سرنگوں کو تباہ کردیا تھا۔ان سرنگوں کو تباہ کرنے کے دوران میں بھی ہم پر غزہ کی جانب سے حملے کیے گئے تھے‘‘۔

عدالت میں حسنی مبارک کے ساتھ ان کے دونوں بیٹے علاء اور جمال مبارک بھی موجود تھے۔دونوں سابق صدور کی فوجداری عدالت میں پیشی کے وقت قاہرہ میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔

عدالت میں حسنی مبارک نے 25 جنوری انقلاب کے دوران میں جیلوں پر حملوں سے متعلق مقدمے میں گواہی دینے کے لیے دسمبر کے اوائل میں پیش ہونا تھا لیکن انھوں نے سول درخواست کے تحت گواہی کے لیے آنے سے انکار کردیا تھا کیونکہ وکیل صفائی فرید الدیب کے بہ قول انھیں اب بھی فوجی حیثیت ( درجہ ) حاصل ہے۔

مصر کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دو سابق صدور حسنی مبارک اور ڈاکٹر محمد مرسی پہلی مرتبہ عدالت کے ایک ہی ہال میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ان میں اول الذکر گواہی دینے کے لیے آیا تھا اور ثانی الذکر مدعا علیہ کے طور پر پیش ہوا تھا۔

ڈاکٹر محمد مرسی یا الا خوان المسلمون کے مبیّنہ حامیوں نے جب جیلوں اور پولیس تھانوں پر دھاوے بولے تھے تو اس وقت حسنی مبارک صدارت کے منصب پر فائز تھے اور انھیں اسی حیثیت میں عدالت میں گواہی کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد 25 جنوری 2011ء کو ان کی طویل مطلق العنان حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا تھا۔