جنرل کیمرٹ الحدیدہ سے انخلا کے طریقہ کار پر جوابات کے منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے صوبے الحدیدہ میں فائر بندی کی نگرانی کرانے والی مشترکہ کمیٹی نے جمعرات کے روز جنرل پیٹر کیمرٹ کی صدارت میں اپنے اجلاسوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس موقع پر آئینی حکومت اور باغی حوثیوں دونوں کے وفود بھی موجود ہیں۔ جنرل کیمرٹ کو الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہ سے انخلا پر عمل درامد کے طریقہ کار سے متعلق دونوں فریقوں کے جواب کا انتظار ہے۔ کیمرٹ نے یہ میکانزم بدھ کے روز پیش کیا تھا۔

الحدیدہ صوبے کے سکریٹری ولید القدیمی کے مطابق کیمرٹ نے الحدیدہ صوبے کی بندرگاہوں (الحديدہ، الصليف، رأس عيسى اور الحدیدہ شہر کے بعض حصوں) اور الحدیدہ شہر سے حوثیوں کے انخلا کا جو میکانزم پیش کیا ہے اس میں سویڈن معاہدے کے مطابق زیادہ سے زیادہ اگلے منگل کے روز تک کی مہلت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل کیمرٹ ہی معاہدے پر عمل درامد کروانے سے متعلق شخصیت ہیں اور وہ اس بات کا تعین کریں گے کہ کون سے فریق کا انخلا عمل میں آنا ہے۔

القدیمی کے مطابق جنرل کیمرٹ آج مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں فائر بندی کی نگرانی سے متعلق خصوصی میکانزم پیش کریں گے۔ یہ فائر بندی 18 دسمبر سے نافذ العمل ہے جب کہ اس دوران حوثی ملیشیا کی جانب سے اس کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل کیمرٹ بعد ازاں ہر فریق کے ساتھ از سر نو عسکری تعیناتی کا منصوبہ بھی زیر بحث لائیں گے۔ عمل درامد سے متعلق اقدامات شروع ہونے تک ان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے۔

ان ہی ذرائع کے مطابق آئینی حکومت کے وفد نے الحدیدہ صوبے میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے دستاویزات سے حوثی ملیشیا کے کھلواڑ کے بارے میں ایک مربوط فائل تیار کر لی ہے۔ حوثیوں کے سیکڑوں جنگجو ان فورسز میں شامل ہو گئے۔

یاد رہے کہ جنرل پیٹرک کیمرٹ کی قیادت میں مشترکہ کمیٹی سویڈن سمجھوتے کی بنیاد پر الحدیدہ صوبے میں فائر بندی کی نگرانی کی ذمے دار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں