دمشق میں متحدہ عرب امارات کا سفارت خانہ آج سے دوبارہ کھل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے دارالحکومت دمشق میں متحدہ عرب امارات آج جمعرات سے دوبارہ اپنا سفارت خانہ کھول رہا ہے۔یو اے ای کا سفارت خانہ 2011ء کے اوائل میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد بند کردیا گیا تھا۔

شام کی وزارت اطلاعات نے یو اے ای کے سفارت خانے کی دوبارہ کھلنے کی سب سے پہلے اطلاع دی ہے۔اس نے صحافیوں کو اس موقع پر آج مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈیڑھ بجے منعقد ہونے والی تقریب کی کوریج کی دعوت دی تھی۔

شامی صدر بشارالاسد نے حالیہ برسوں کے دوران میں روس اور ایران کی عسکری مدد سے اپنے خلاف مسلح بغاوت برپا کرنے والے بیشتر گروپوں پر قابو پا لیا ہے ۔ ان کے زیر قبضہ بہت سے علاقے واپس لے لیے ہیں اوراس وقت تھوڑے علاقے داعش ، القاعدہ سے وابستہ النصرہ محاذ یا دوسرے گروپوں کے زیر قبضہ رہ گئے ہیں۔

صدر بشارالاسد کے ملک میں خانہ جنگی سے سرخرو ہوکر نکلنے کے بعد اب عرب ممالک نے آہستہ آہستہ ان سے دوبارہ سلسلہ جنبانی شروع کیا ہے اور اس ماہ کے اوائل میں سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر نے دمشق کا دورہ کیا ہے۔وہ شام میں آٹھ سال قبل خانہ جنگی کے آغاز کے بعد شام کا دورہ کرنے والے پہلے عرب سربراہ ریاست ہیں۔اس سے پہلے شام اور اردن کے درمیان واقع سرحدی گذرگاہ کو اکتوبر میں عام آمدورفت کے لیے کھولا گیا ہے۔

بائیس عرب ممالک پر مشتمل عرب لیگ نے 2011ء میں شام کی رکنیت معطل کردی تھی۔ایک عرب سفارت کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ بہت سے رکن ممالک اب شام کی تنظیم میں واپسی کے حق میں ہیں۔

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل اور تجربے کار مصری سفارت کار احمد ابوالغیط نے اپریل میں کہا تھا کہ شام کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا تھا۔مصر کے سرکاری میڈیا نے بھی حال ہی میں شام کی رکنیت کی بحالی کے حق میں تحریریں شائع کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں