وزارت تیل میں مختلف عہدوں پر 1800 مذہبی شخصیات فائز ہیں : ایرانی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں ایک رکن پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ وزارت تیل میں 1800 مذہبی شخصیات اور علماء مختلف منصبوں پر فائز ہیں تاہم ان کی اسامیوں کو کوئی نام نہیں دیا گیا اور نہ آئل سیکٹر میں ان کے کردار کا تعین کیا گیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ میں توانائی کمیٹی کے سربراہ فریدون حسن وند کے مطابق مذکورہ 1800 مذہبی شخصیات کو وزارت تیل میں یہ مناصب رہبر اعلی علی خامنہ کی ہدایت پر ثقافتی اتاشیوں کے ضمن میں دیے گئے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی نیوز ایجنسی "ايكانا" کو دیے گئے بیان میں فریدون نے باور کرایا کہ اتنی بڑی تعداد میں مذہبی شخصیات کو بھرتی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مبلغین کا استعمال ثقافتی اتاشیوں کے مقاصد کا حصہ ہے۔

حالیہ عرصے کے دوران شہریوں کی جانب سے مذہبی شخصیات پر نکتہ چینی کا رجحان پھیلتا جا رہا ہے۔ یہ شخصیات اکثر و بیشتر مذہبی پولیس کمیٹیوں کے سربراہ کے طور پر نظر آتی ہیں۔ ایرانی شہری مذہبی طبقے کے ملک میں بدعنوانی میں ملوث ہونے اور اقتدار، دولت اور روزگار کے مواقع پر قابض ہونے کے سبب شدید نالاں ہیں۔

علاوہ ازیں حالیہ عوامی احتجاج کی لہر کے بعد مذہبی شخصیات پر حملے بھی بڑھ گئے ہیں کیوں کہ انہیں ملک میں ولایت فقیہ کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی شمار کیا جاتا ہے۔

ایران میں مذہبی شخصیات کی انجمن کے ترجمان غلام رضا مصباحی خبردار کر چکے ہیں کہ عدم اطمینان کا شکار شہریوں کی جانب سے سڑکوں پر مذہبی شخصیات کو چھروں سے نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایران میں شوری نگہبان اور مجلس خبرگان رہبری کے سربراہ آیت اللہ احمد جنتی یہ باور کرا چکے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں منصبوں کا حصول ،،، حکمراں نظام سے تعلق رکھنے والے افراد اور اس نظام کے حامی پاسداران انقلاب اور باسیج فورسز کی شخصیات کا حق ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایرانی نظام ایسے لوگوں کو انتخابات کے ذریعے پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا جو ولایت فقیہ، حکمراں نظام اور آئین پر یقین نہیں رکھتے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں