یمن : حوثیوں کی جانب سے لڑائی میں جھونکے گئے ایک اسکول کے 50 بچوں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثیوں کو لڑائی کے مختلف محاذوں پر بھاری جانی نقصان کا سامنا ہو رہا ہے۔ بالخصوص صراوح، نہم اور مغربی ساحل کے محاذوں پر باغیوں کی جماعت کے ارکان بڑی تعداد میں مارے گئے۔

سوشل میڈیا پر یمنی حلقوں نے صنعاء صوبے کے ضلعے بنی حشیش کے ایک انٹرمیڈیٹ اسکول کے طلبہ کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے۔ یہ طلبہ حوثیوں کے ہاتھوں جنگ میں جھونکے جانے کے بعد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اس فہرست کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

مذکورہ ضلع میں واقع "العلم و الايمان" اسکول سے تعلق رکھنے والے یہ طلبہ مختلف کلاسوں میں زیر تعلیم تھے۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش دستاویز میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ حوثیوں نے اسکولوں کو فرقہ وارانہ اور عسکری بیرکوں میں تبدیل کیا اور طلبہ کو لڑائی کے محاذوں میں جھونک ڈالا۔

حوثی ملیشیا مخلتف محاذوں پر جنگجوؤں کی کمی پوری کرنے کے لیے اسکول کے طلبہ اور بچوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

اس سے قبل مقامی ذرائع نے کچھ عرصہ قبل حوثیوں کی جانب سے صنعاء صوبے کے مختلف ضلعوں میں بچوں کو بھرتی کرنے کی مہم کا اانکشاف کیا تھا۔ ان بچوں کو پہلے خصوصی عسکری کیمپوں میں منتقل کیا جاتا اور اس کے بعد لڑائی کے محاذوں پر بھیج دیا جاتا۔

بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسکول کے بچوں کا استحصال کرتے ہوئے انہیں بھرتی کر کے موت کی بھٹیوں میں دھکیل رہی ہے۔

کچھ عرصہ قبل امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ یمن کی جنگ کے آغاز کے بعد سے حوثیوں نے 18 ہزار سے زیادہ یمنی بچوں کو بھرتی کیا۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں