شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے تمام عرب ممالک کا اتفاق رائے ضروری ہے: قرقاش

شام میں ایران اور ترکی کے بجائے عرب ممالک کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے تمام عرب ممالک کے اتفاق رائےسے ممکن ہے۔

'العربیہ' کودیے گئے خصوصی انٹرویو میں انور قرقاش کا کہنا تھا کہ تمام عرب ممالک کا شام کے بحران کے موثر سیاسی حل کا روڈ میپ دینے سے اتفاق ہے۔

ایک سوال کے جواب میں‌انہوں‌نے کہا کہ دمشق کے ساتھ رابطوں کی بحالی ایرانی مداخلت کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑے گی۔

انور قرقاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا دمشق میں اپنا سیاسی اور سفارتی مشن بحال کرنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیاگیا ہے۔ شام میں تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتی صورت حال اور آنے والے وقت میں دمشق کے ساتھ عرب ممالک کے رابطے ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ امارات شامی قوم، ملک کی خود مختاری اور اس وحدت کا حامی ہے۔

درایں اثناء اماراتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے سوشل میڈیا کی ویب سائیٹ 'ٹوئٹر'پر پوسٹ ایک ٹویٹ میں کہا کہ شام میں ایرانی اور ترکی مداخلت سے عرب ممالک کا کردار زیادہ ضروری ہے۔ متحدہ عرب امارات دمشق میں اپنا سفارتی مشن بحال کرکے عرب ممالک کے شام میں کردار کو مزید فعال بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک شام میں موجود رہ کر جنگ کے خاتمے اور شام میں دیر پا قیام امن کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز اماراتی وزارت خارجہ نے شام میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں