.

الحدیدہ: قیدیوں کے تبادلے میں حوثی باغیوں کا معاہدے سے فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں الحدیدہ صوبے کے سکریٹری ولید القدیم نے ’’الحدث‘‘ نیوز چینل کو دیے گئے بیان میں باور کرایا ہے کہ حوثی ملیشیا قیدیوں سے متعلق دستخط کیے گئے معاہدے پر عمل درامد میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس معاہدے کا اعلان سویڈن مذاکرات کے ابتدائی دنوں میں کیا گیا تھا۔

القدیم کے مطابق باغیوں کی جانب سے اس ٹال مٹول کا مقصد حوثی ملیشیا اور یمنی حکومت کے نمائندوں کی جنرل پیٹرک کیمرٹ کے ساتھ بات چیت کی مدت کو طول دینا ہے۔ کیمرٹ الحدیدہ میں فائر بندی اور وہاں سے حوثی ملیشیا کے انخلا کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

ادھر قیدیوں اور گرفتار شدگان کی رہائی سے متعلق یمنی حکومت کی ٹیم کے زرائع نے انکشاف کیا ہے کہ باغی حوثی ملیشیا نے اپنی جیلوں میں اُن تین ہزار کے قریب گرفتار شدگان کی موجودگی سے انکار کر دیا ہے جن کے نام سویڈن میں طے پانے والے قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے میں حکومتی وفد کی جانب سے پیش کی جانے والی فہرستوں میں موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق باغی ملیشیا گرفتار شدگان کے معاملے میں اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ٹال مٹول کر رہی ہے تا کہ اس سمجھوتے کو ناکام کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ الحدیدہ صوبے کے سکریٹری نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ جنرل پیٹرک کیمرٹ الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہوں سے حوثی ملیشیا کے انخلا کا طریقہ کار پیش کر چکے ہیں جس میں آئندہ منگل تک کی انتہائی مہلت دی گئی ہے۔

دوسری جانب الحدث نیوز چینل کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز صنعاء کو الحدیدہ اور تعز سے ملانے والے مشرقی راستے کو کھولنے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ اس راستے کا نام "ہائی وے 16 کلومیٹر" ہے۔

دوسری جانب حوثی ملیشیا نے الحدیدہ شہر کی شمالی گزر گاہ کو کھولنے یا الحدیدہ کی بندرگاہ سے انخلا سے انکار کر دیا ہے۔ یہ دونوں امور سویڈن معاہدے کی ابتدائی شقوں کے متن میں شامل ہیں۔ الحدیدہ کی بندرگاہوں سے باغیوں کے عدم اںخلا پر اقوام متحدہ کی نگراں ٹیم کی جانب سے ابھی تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔