.

جرمن کمپنی نے ایران کو سپئرپارٹس کی فروخت بند کر دی

ایران پر 'کریمپل' کے تیار کردہ اجزاء کو میزائل سازی میں استعمال کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں اسپیر پارٹ تیار کرنے والی کمپنی 'کریمپل' نے ایران کو اجزاء کی فروخت بند کر دی ہے اور کہا ہے کہ تہران اس کی تیار کردہ مصنوعات کو میزائلوں کی تیاری میں استعمال کرتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جرمن کمپنی کے تیار کردہ اجزاء دوہرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ اسپیر پارٹس ایرانی کمپنیوں کو فروخت کیے جاتے رہے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب انہیں میزائل سازی کے لیے استعمال کرتا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائیٹ "ڈیلی وائر"نے اپنی رپورٹ میں جرمن کمپنی کے اقدام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک اور کامیابی قرار دیا ہے۔ ویب سائیٹ کے مطابق جرمن کمپنی نے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی پابندیوں میں واشنگٹن کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

امریکی ویب سائیٹ کے مطابق ایان میں تیارکردہ میزائل شام میں بشار الاسد کو مہیا کئے گئے اور وہ عام شہریوں اور بچوں پر کیمیائی حملوں کے لیے انہیں استعمال کرتے رہے ہیں۔

جرمنی میں متعین امریکی سفیر رچرڈ گرینیل نے کمپنی کو ایران پر پابندیوں میں امریکا کےساتھ تعاون پر قائل کیا اور تہران پر اقتصادی دبائو بڑھانے کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی میں انہیں اپنے ساتھ شامل کیا ہے۔

ایک بیان میں امریکی سفیر گرینیل کا کہنا ہے کہ کمپنیوں‌کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ایران کے ساتھ تجارت کا مطلب دہشت گردی کی پاسداران انقلاب کی اسٹریٹیجی میں تہران کی مدد کرنا ہے۔

ادھر کریمپل کمپنی کے ترجمان رینر فیسٹرمین نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی کمپنی نے کئی ماہ سے ایران کو سامان فروخت نہیں کیا ہے۔ کریمپل کمپنی میزائلوں کے انجنوں میں استعمال ہونے والی الیکٹرانک پینل کی پلیٹیں تیار کرتی ہے اور ایرانی رجیم انہیں میزائل سازی میں استعمال کرتی ہے۔ شام کےایک فوٹو گرافر نے انکشاف کیا تھا کہ ایران جرمن کی تیار کردہ الیکٹرانک پلیٹوں کو کیمیائی حملوں کے لیے استعمال ہونے والے میزائلوں کی تیاری میں استعمال کرتا ہے۔