.

میں اور عادل الجبیر ایک دوجے کی تکمیل کے لیے ہیں: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نئے وزیر خارجہ ابراہیم العسّاف کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک کسی بحران سے نہیں بلکہ تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو انگریزی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

اکتوبر میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے العساف نے کہا کہ "ضمال خاشقجی کے معاملے نے واقعتا ہم سب کو رنجیدہ کر دیا مگر بالآخر ہم کسی بحران سے نہیں گزر رہے، ہم تبدیلی کا عمل دیکھ رہے ہیں"۔

سعودی عرب میں وزراء کے حالیہ رد و بدل کے حوالے سے العساف کا کہنا تھا کہ "عادل الجبیر نے سعودی عرب کی نمائندگی کی اور وہ دنیا بھر میں مملکت کی نمائندگی جاری رکھیں گے۔ ہم ایک دوجے کو مکمل کرنے والے ہیں"۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جمعرات کے روز جاری ایک شاہی فرمان میں عادل الجبیر کی جگہ ابراہیم العساف کو وزیر خارجہ مقرر کیا تھا جب کہ عادل الجبیر کو وزیر مملکت برائے خارجہ امور بنا دیا گیا ہے۔

مملکت میں 1949 میں پیدا ہونے والے ابراہیم العساف نے 1996 سے 2016 تک بیس برس وزیر خزانہ کے عہدے پر کام کیا۔ انہیں 31 اکتوبر 2016 کو شاہی فرمان کے ذریعے اس عہدے سے سبک دوش کر دیا گیا تھا۔

ابراہیم العساف نے 1981 میں امریکا میں کولوراڈو ریاست کی یونیورسٹی سے اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 1971 میں امریکا کی ڈینفر یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز مکمل کیا تھا۔ العساف نے 1968 میں ریاض میں کنگ سعود یونیورسٹی سے اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کیا۔

ابراہم العساف 1971 سے اب تک مملکت میں متعدد اہم سرکاری عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔