.

کُردوں کے پاس ہتھیار باقی رہنے کی امریکی ہدایت پر ترکی چراغ پا ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی قیادت کی جانب سے کُرد جنگجوؤں کو اس ہدایت کے بعد کہ وہ واشنگٹن کی طرف سے فراہم کیے گئے ہتھیاروں کو اپنے پاس برقرار رکھیں۔ یہ توقع پیدا ہو گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں ترکی کا غضب ناک موقف سامنے آئے گا۔

تفصیلات کے مطابق چار امریکی عہدے داران نے بتایا ہے کہ شام سے امریکی فورسز کے انخلا کی منصوبہ بندی کرنے والی امریکی قیادت نے داعش کے خلاف برسر جنگ کرد جنگجوؤں کو اجازت دی ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے ہتھیاروں کو اپنے پاس رکھیں۔ یہ اقدام غالبا نیٹو اتحاد میں امریکا کے حلیف ترکی کو چراغ پا کر دے گا۔

مذکورہ عہدے داران میں سے تین نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ہدایت امریکی منصوبے کے مسودے کے حوالے سے جاری بحث کا حصہ ہے۔

ابھی تک اُس حتمی ہدایت کا معلوم نہیں ہو سکا جو امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) وائٹ ہاؤس کو بھیجے گی۔ امریکی عہدے داران نے واضح کیا ہے کہ پینٹاگون میں اس حوالے سے بحث ابتدائی مرحلے میں ہے اور ابھی تک اس سلسلے میں فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں آئندہ دنوں کے دوران یہ منصوبہ وہائٹ ہاؤس کو پیش کیا جائے گا تا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حتمی فیصلہ کریں۔

دوسری جانب پینٹاگون کا کہنا ہے کہ کُردووں کو دیے گئے ہتھیاروں کے انجام کے حوالے سے تبصرہ کرنا "نا مناسب" اور قبل از وقت ہو گا۔ پینٹاگون کے ترجمان شین روبرٹسن کے مطابق منصوبہ بندی کا عمل جاری ہے اور اس امر پر توجہ دی جا رہی ہے کہ امریکی فوجیوں کا بحفاظت انخلا یقینی بنایا جائے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اچانک شام سے امریکی فورسز کے مکمل انخلا کا حکم جاری کر دیا تھا۔ اس فیصلے نے وسیع پیمانے پر تنقید کا دروازہ کھول دی اور وزیر دفاع جیمز میٹس کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔

ایک امریکی عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس تنظیم کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ داعش تنظیم کے خلاف لڑائی کے خاتمے تک ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے گا۔ عہدے دار نے مزید کہا کہ "لڑائی ختم نہیں ہوئی۔ ہم اتنی آسانی سے ہتھیاروں کی واپسی کا مطالبہ نہیں شروع کر سکتے"۔

یاد رہے کہ امریکا کی جانب سے پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے پاس ہتھیاروں (جن میں ٹینک شکن راکٹ، بکتر بند گاڑیاں اور مارٹر گولے شامل ہوسکتے ہیں) کو چھوڑ دینے کی تجویز کے نتیجے میں واشنگٹن کے کُرد حلیفوں کو اطمینان حاصل ہو گا کہ امریکا ان سے دست بردار نہیں ہوا۔ تاہم یہ امر ترکی کے بپھرنے کا ذریعہ ہو گا جو شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔

انقرہ اس بات کا خواہاں ہے کہ امریکا یہ ہتھیار واپس لے لہذا امریکی قیادت کی اس ہدایت کی توثیق کی صورت میں ٹرمپ کا وہ منصوبہ پیچیدگی سے دوچار ہو سکتا ہے جس میں انہوں نے ترکی کو اجازت دی ہے کہ وہ شام کے اندر داعش کے خلاف لڑائی ختم کر دے۔

اگرچہ پینٹاگون کے پاس کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو فراہم کیے گئے ہتھیاروں کا اندراج ہے مگر امریکی عہدے داران کا کہنا ہے کہ ان تمام ہتھیاروں کے مقامات کا تعین کرنا تقریبا ناممکن ہو گا۔