.

‎خاشقجی کیس میں قطر کے ملوث ہونے کے نئے شواہد کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ایک معروف سکیورٹی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "واشنگٹن پوسٹ اخبار نے خود کو اپنی تاسیس کے بعد سب سے بڑے اسکینڈل میں ڈال دیا ہے کیوں کہ اس نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے ساتھ مل کر قطر کے مفاد میں سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈے کی منظم مہم چلانے کی کوشش کی"۔

سکیورٹی اسٹڈیز گروپ SSG کے سربراہ جِم ہینسن جو امریکی اسپیشل فورسز میں بطور افسر خدمات انجام دے چکے ہیں، نے اپنے ایک حالیہ تجزیے میں کہا ہے کہ امریکی اخبار نے اپنے اس اسکینڈل کو کرسمس سے قبل بوگس خبروں کے قبرستان میں دفنانے کی کوشش کی تاہم یہ کوشش آنے والے دنوں میں اخبار کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان پر روک لگانے میں کامیاب نہیں ہو گی۔

ہینسن نے اپنے تجزیے میں اُن ٹیکسٹ میسجز کا حوالہ دیا ہے جن کا تبادلہ جمال خاشقجی اور قطر فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی ایک خاتون ایگزیکٹو افسر میگی مچل سالم کے درمیان ہوا۔ واشنگٹن پوسٹ نے 21 دسمبر کو اپنے ایک مضمون میں انکشاف کیا کہ ان پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ میگی خاشقجی کے مضامین تجاویز کرتی، ان کا مسودہ تیار کرتی اور پھر نوک پلک بھی سنوارا کرتی تھی۔ میگی سالم بعض اوقات جمال خاشقجی کو مضامین لکھوایا کرتی تھیں اور وہ پھر انھیں اشاعت کے لیے واشنگٹن پوسٹ کو بھیج دیا کرتے تھے۔

ہینسن نے واشنگٹن پوسٹ کے اس دعوے پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اسے اس پورے معاملے کا کوئی علم نہیں تھا جب کہ خاشقجی کے قطر کے ساتھ تعلقات سب جانتے ہیں۔ ہینسن کے مطابق اخبار کی انتظامیہ کو اس بات کا جواب دینا ہو گا کہ آیا ان نکات کی کڑیوں کو ملانے میں عدم اہلیت کا ہاتھ ہے یا پھر سادہ سی بات ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے ان باتوں کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔

سکیورٹی اسٹڈیز گروپ SSG کی سابقہ تحقیق کے مطابق ترکی میں خاشقجی کی قیام گاہ سے ملنے والی دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ قطر سے مالی رقوم کو ترکی میں بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا گیا۔

ہینسن کے مطابق ایس ایس جی کی تحقیق کے نتائج قطر، ترکی اور واشنگٹن پوسٹ کے لیے ملامت کا باعث ہوں گے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جمال خاشقجی نے قطر کے مفاد میں ان امور کو انجام دے کر Foreign Agents Registration Act کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا۔ یہ وہ ہی قانون ہے جس کی بنیاد پر امریکی جنرل فلن اور پول مینافورٹ کو قانونی طور پر پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا۔

ایس ایس جی مرکز کے سربراہ ہینسن کا کہنا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے اداریوں میں اس بات کی کوشش کی گئی کہ سعودی عرب کے خلاف امریکا کی پالیسی پر اثر انداز ہو کر اس کو الاخوان المسلمین تنظیم کے حق میں موڑا جائے۔ زیادہ تر خلیجی اور عرب ممالک میں دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں اندراج کے باوجود قطر الاخوان کو سپورٹ کرتا ہے ۔

ہینسن کے مطابق اگرچہ ترکی زبان کے میڈیا نے جمال خاشقجی کے قتل کے بعد روایتوں کی سمت متعین کرنے میں قطر کے عرب میڈیا کے ساتھ مل کر کام کیا تاہم ترکی کی انٹیلی جنس نے اپنی اس کارروائی میں مغربی دنیا میں انگریزی زبان کے صحافیوں کے پلیٹ فارم کو مرکزی طور پر استعمال کیا۔

ایس ایس جی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے ذریعے سعودی عرب کو مکمل طور پر کمزور کرنے اور بالخصوص امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات کو برباد کرنے کی کوشش کی گئی ۔

ہینسن نے زور دے کر کہا کہ قطر اور ترکی دونوں نے سعودی عرب پر میڈیا کے حملوں سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ قطر کی جانب سے روس، ایران اور ترکی جیسے ممالک کے ساتھ اتحاد بنائے جانے پر توجہ کرے کیوں کہ اس کے نتائج امریکا کے مفادات سے متصادم ہوں گے۔