.

حماس: مصر میں 2011ء کے اوائل میں جنگجو بھیجنے سے متعلق حسنی مبارک کا دعویٰ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس نے معزول مصری صدر حسنی مبارک کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اس جماعت نے 2011ء کے اوائل میں ان کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں اپنے سیکڑوں کارکنان کو غزہ سے سرنگوں کے ذریعے مصری علاقے میں بھیجا تھا۔

سابق مصری صدر نے بدھ کو قاہرہ کی فوجداری عدالت میں ایک اور معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف گواہی دی تھی اور کہا تھا کہ انھیں تب غزہ سے جنگجوؤں کی مصری علاقے میں دراندازی سے متعلق انٹیلی جنس چیف نے اطلاع دی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’’ جنرل عمر سلیمان نے مجھے 29 جنوری 2011ء کو یہ اطلاع دی تھی 800 مسلح جنگجو سرحد سے شمالی سیناء میں درانداز ہوئے تھے۔ان کا تعلق حماس سے تھا اور وہ شمالی سیناء کے مکینوں کی مدد سے زیر زمین سرنگوں کے ذریعے سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہوئے تھے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے وادی النطرون جیل کو توڑا تھا کیونکہ وہاں الاخوان المسلمون اور حماس سے تعلق رکھنے والے افراد قید تھے۔ ان حملہ آوروں نے شمالی سیناء میں پولیس افسروں کو قتل کیا تھا ۔ انھوں نے عدالت سے کہا تھا کہ ان کے پاس مزید بھی معلومات ہیں لیکن انھیں افشا کرنے کے لیے ایوان ِ صدر سے اجازت کی ضرورت ہے۔

لیکن حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مصر کے معزول صدر کے عدالت میں دیے گئے بیان میں دعووں کی سختی سے تردید کرتی ہے۔اس نے کہا ہے’’حسنی مبارک نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ حماس نے فلسطینیوں ، مصریوں اور عرب قیدیوں کی مصری جیلوں سے رہائی کے لیے اپنے 800 ارکان کو بھیجا تھا‘‘۔

اس نے بیان میں مزید کہا ہے:’’ حماس بعض فریقوں کے اس اصرار پر تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ وہ فلسطینی تحریک کو مصر کے داخلی امور میں ملوث کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ اپنے اس موقف کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے داخلی امور میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے‘‘۔