.

عراق کے سنی مفتی اعظم علامہ الصمیدعی ایرانی رجیم کا ایجنٹ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمہوریہ عراق میں مفتی اعظم کا منصب صرف اور صرف ایک دینی رہ نمائی کا مرجع سمجھا جاتا ہے مگر اس اہم ترین منصب کو ایران اپنے اثرونفوذ کے لیے استعمال کرنے سے بھی بازنہیں آتا۔ اس بار عراق میں ایک ایسے شخص کو مفتی دیار عراق تعینات کیا گیا ہے جو مسلک کے اعتبار سے تو اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتا ہے مگر اہل سنت کے لبادے میں وہ عراق میں ایران کا ایجنٹ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی تجزیہ نگار اور صحافی علی الحیالی نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ آج تک ہم نے نہیں دیکھا کہ کوئی عام شہری کسی دینی مسئلے پر علامہ مہدی الصمیدعی سے کوئی سوال پوچھا ہو۔

الحیالی کا مزید کہنا ہے کہ عراقی عوام کی اکثریت الصمیدعی کے نام سے نا واقف ہے اور جو لوگ ان کے واقف ہیں وہ انہیں عراق میں ایرانی پاسداران انقلاب، فیلق القدس اور ایرانی جرنل قاسم سلیمانی کاایجنٹ سمجھتے ہیں۔

انہوں‌نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں مفتی جمہوریہ کا منصب محض ایک خیالی اور فرضی عہدہ ہے جسے سابق وزیراعظم نوری المالکی نے فعال کیا۔ الصمیدعی اور نوری المالکی کےدرمیان گہرے مراسم تھے۔ المالکی نے مہدی الصمیدعیی کو عراق میں اہل سنت کا دینی وروحانی مرکز سمجھی جانے والی جامع مسجد ام طبول کی سرپرستی سونپی۔ یہ عہدہ اہل سنت کی وفاداریاں حاصل کرنے کے لیے سیاسی رشوت ثابت ہوا اور اس کے ذریعے عراق میں اہل سنت کے سرکردہ رہ نما عبدالملک السعدی کی حیثیت کو مزید کم کرنا تھا جو الانبار میں اہل سنت کے جید مفتی سمجھےجاتے ہیں۔

خیال رہے کہ الصمیدعی نے گذشتہ جمعہ کو ایک فتویٰ صادر کیا جس میں انہوں نے سال نو کی تقریبات میں‌شرکت کو حرام قرار دیا۔

رواں ماہ کے اوائل میں ایرانی فیلق القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی، عراقی شیعہ ملیشیا حشد الشعبی کے نائب صدر ابو مہدی المہندس نے عراق میں ایرانی سفیر سمیت جامع ام الطبول میں مہدی الصمیدعی سے ملاقات کی تھی۔

عراقی دارالافتاء کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الصمیدعی نے جنرل قاسم سلیمانی اور مہدی المہندس سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے عراق میں حکومت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

احرار العراق ملیشیا

خیال رہے کہ عراق میں دارالافتاء کا شعبہ سب سے پہلے عراق کی اسلامی مزاحمتی تحریک 'احرارالعراق' کی جانب سے تشکیل دیا گیا۔ اس وقت بھی اس شعبے کی سربراہی مہدی الصمیدعی ہی کوسونپی گئی تھی۔ ذرائع کا کہناہے کہ دارالافتاء کے قیام کا مقصد داعش کے خلافل لڑائی میں معاونت کرنا تھا۔ عراق کے دارالافتاء کو شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے ذریعے مالی مدد فراہم کی جاتی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے دارالافتاء کے دورے کا مقصد الصمیدعی وقف سنی وقف بورڈ کا سربراہ مقرر کرنا تھا۔ سنی وقف بورڈ عراق میں اہم عہدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ادارے کے موجودہ سربراہ عبداللطیف الھمیم کو فارغ کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔